ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ڈیوڈ ہیڈلی نے کہا : مجھے ہندوستان سے 1971 میں ہی نفرت ہو گئی تھی

ممبئی : ممبئی حملوں کے گنہگار ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی آج بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ممبئی کی عدالت میں گواہی لی جاری ہے۔ آج ہیڈلی نے اپنی گواہی میں کچھ نئے انکشافات کئے ہیں ۔ ہیڈلی نے کہا کہ آخر وہ کیوں لشکر میں شامل ہوا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Mar 25, 2016 10:47 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ڈیوڈ ہیڈلی نے کہا : مجھے ہندوستان سے  1971 میں  ہی نفرت ہو گئی تھی
ممبئی : ممبئی حملوں کے گنہگار ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی آج بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ممبئی کی عدالت میں گواہی لی جاری ہے۔ آج ہیڈلی نے اپنی گواہی میں کچھ نئے انکشافات کئے ہیں ۔ ہیڈلی نے کہا کہ آخر وہ کیوں لشکر میں شامل ہوا۔

ممبئی : ممبئی حملوں کے گنہگار ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی آج بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ممبئی کی عدالت میں گواہی لی جاری ہے۔ آج ہیڈلی نے اپنی گواہی میں کچھ نئے انکشافات کئے ہیں ۔ ہیڈلی نے کہا کہ آخر وہ کیوں لشکر میں شامل ہوا۔ ہیڈلی نے کہا کہ مجھے ہندوستان سے 1971 سے ہی نفرت تھی، کیونکہ اس وقت کی جنگ میں ہندوستان نے جو بم پاکستان پر گرائے تھے، اس میں میرا اسکول مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، تبھی سے مجھے ہندوستان سے نفرت ہو گئی تھی۔

ہیڈلی نے ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد ریڈیو پاکستان کے ڈی جی تھے۔ دسمبر 2008 میں جب میرے والد کی موت ہوئی تھی ، تو اس کے چند ہفتے کے بعد اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی میرے گھر آئے تھے اور مجھ سے ملے تھے۔

جرح کے دوران ہیڈلی نے ہندی میں کہا کہ ہاں میں بہت خراب انسان ہوں، یہ میں نے مان لیا ہے، اگر آپ دوبارہ کہتے ہیں ، تو میں پھر سے مان لیتا ہوں کہ میں بہت زیادہ خراب انسان ہوں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ہیڈلی نے کہا کہ میں امریکہ کی کس جیل میں بند ہوں اور ابھی کہاں ہوں ، میں اس کا انکشاف نہیں کر سکتا ۔ مجھے امریکہ جیل میں کیا کیا اجازت دیتا ہے، یہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا ۔ یہ سچ نہیں ہے کہ میں جیل میں عیش و آرام سے بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔

First published: Mar 25, 2016 10:47 AM IST