ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

عشرت جہاں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک تھی: ہیڈلی کا دعوی

ممبئي۔ ممبئي حملے میں ملوث ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے آج ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تصادم میں ماری گئی عشرت جہاں دہشت گرد تنظیم لشكر طیبہ سے منسلک تھی اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے مکمل مالی مدد کی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 11, 2016 03:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عشرت جہاں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک تھی: ہیڈلی کا دعوی
ممبئي۔ ممبئي حملے میں ملوث ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے آج ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تصادم میں ماری گئی عشرت جہاں دہشت گرد تنظیم لشكر طیبہ سے منسلک تھی اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے مکمل مالی مدد کی تھی۔

ممبئي۔  ممبئي حملے میں ملوث ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے آج ایک اور بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تصادم میں ماری گئی عشرت جہاں دہشت گرد تنظیم لشكر طیبہ سے منسلک تھی اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے مکمل مالی مدد کی تھی۔ ہیڈلی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردانہ حملے کے لئے اس انڈس بینک کی نریمن شاخ سے پیسہ حاصل ہوتا تھا۔ سرکاری وکیل اجول نکم کے ذریعہ 26/11  کے حملے میں مبینہ طور پر ملوث تہور رانا کے بارے میں پوچھے جانے پر ہیڈلی نے کہا کہ رانا کو اس حملے کی سازش کے بارے میں معلومات تھی اور اس نے بھی اسے پیسے دیئے تھے۔


سرکاری وکیل اجول نکم کے پاکستانی۔کناڈیائی شہری تہور راناکے بارے میں پوچھے جانے پر ہیڈلی نے کہاکہ رانا کو 26/11حملے کی سازش کی خبر تھی اور اس کے ذریعہ ہی اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے پیسے ملے تھے۔ اس نے کہاکہ آئی ایس آئی کے میجر اقبال نے بھی اسے 25ہزار ڈالر کی مدد دی تھی۔ ہیڈلی نے دوسرے دن اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ آئی ایس آئی اور شکر طیبہ کے مابین گہری ساز باز ہے اور ہندوستان میں دہشت پھیلانے کے لئے پاکستان کی سبھی دہشت گرد تنظیمیں یونائیٹڈ جہاد کاونسل کے تحت کام کرتی ہیں۔


ہیڈلی 2008سے پہلے کئی بار ممبئی آچکا تھا ۔ ایک بار وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی ممبئی آیا تھا۔ اس نے یہاں پر چھترپتی شیواجی ٹرمنس ریلوے اسٹیش، بحریہ کے فضائی اڈے، پولیس ہیڈکوارٹر ، ہوٹل تاج، ہوٹل اوبرائے اور سدھی ونائک مندر کی ریکی کی تھی۔ ہیڈلی نے عدالت کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی لشکر طیبہ کی مالی ، فوجی اور اخلاقی مدد کرتی ہے۔ اس نے اس سلسلہ میں آئی ایس آئی کے چار حکام برگیڈئر ریاض، کرنل شاہ، لیفٹننٹ حمزہ اور میجر ثمر علی کی شناخت کی۔


مسٹر اجول نکم نے کہاکہ جب ہیڈلی سے پوچھا گیا کہ ہوٹل تاج کو خاص طورپر کیوں نشانہ بنایا گیا تو اس نے بتایا کہ ہوٹل کی دوسری منزل پر سائنسدانوں کی کانفرنس ہونے والی تھی اس لئے اسے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہیڈلی نے کولابا میں بھگت سنگھ روڈ کا ویڈیو بنایا تھا ۔ اس نے اس سڑک پر واقع لیوپولڈ ہوٹل، پولیس اسٹیشن، دکانوں اور ریستوراں کا ویڈیو بنایا تھا۔


First published: Feb 11, 2016 01:44 PM IST