ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی پر دو بار حملے کی کوشش ہوئی تھی ناکام: ڈیوڈ ہیڈلی کا اعتراف

ممبئی۔ ممبئی میں 26 نومبر 2008 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے مجرم امریکی شہری ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے آج تسلیم کیا کہ حملے کے پہلے وہ پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے رکن میر ساجد کے رابطہ میں تھا اور اس حملے کے بعد وہ ہندوستان آیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 08, 2016 02:45 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ممبئی پر دو بار حملے کی کوشش ہوئی تھی ناکام: ڈیوڈ ہیڈلی کا اعتراف
ممبئی۔ ممبئی میں 26 نومبر 2008 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے مجرم امریکی شہری ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے آج تسلیم کیا کہ حملے کے پہلے وہ پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے رکن میر ساجد کے رابطہ میں تھا اور اس حملے کے بعد وہ ہندوستان آیا تھا۔

ممبئی۔ ممبئی میں 26 نومبر 2008 میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے مجرم امریکی شہری ڈیوڈ کول مین ہیڈلی نے آج تسلیم کیا کہ حملے کے پہلے وہ پاکستانی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے رکن میر ساجد کے رابطہ میں تھا اور اس حملے کے بعد وہ ہندوستان آیا تھا۔ ہیڈلی نے امریکہ کی ایک جیل سے ممبئی کی خصوصی عدالت کو ويڈيو کانفرنسنگ کے ذریعہ دئے گئے بیان میں اعتراف کیا کہ دہشت گرد انہ حملے سے قبل وہ دہشت گرد میر ساجد کے رابطے میں تھا۔ساجد میر کے کہنے پر اس نے ہندوستان میں گھسنے کے لئے داؤد گیلانی سے نام بدل کر ڈیوڈ ہیڈلی رکھا تھا اور اسی کے کہنے پر وہ ممبئی میں سات بار حملے کی ریکی کرنے آیاتھا۔ اس نے بتایا کہ اس کی تعلیم پاكستاني آرمی اسکول میں ہوئی تھی۔اس نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردانہ حملے کے بعد7 مارچ 2009 کو وہ ہندوستان آیا تھا۔


واضح رہے کہ ہیڈلی ممبئی حملے کا مجرم قرار دیا گیا ہے اور وہ امریکہ میں 35 سال کی جیل کی سزا کاٹ رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہیڈلی کی آج پہلی بار ممبئی کی ایک عدالت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گواہی شروع ہو گئی ہے۔ اسے ممبئی دہشت گردانہ معاملے میں سرکاری گواہ بنایا گیا ہے۔ عدالت میں فی الحال اس معاملے کے اہم سازشی سید ذبیح الدين انصاری عرف ابو جندال پرمقدمہ چل رہا ہے۔اس سے پہلے خصوصی سرکاری پراسیکیوٹر اججول نکم نے کہا کہ ہندوستانی قانون کی تاریخ میں پہلی بار کوئی غیر ملکی دہشت گرد کسی ہندوستانی عدالت میں پیش ہوگا اور اپنابیان دے گا۔ مسٹر نکم نے کہا کہ 26/11 کے حملے کے کئی حقائق کو سامنے لانے کے لئے ہیڈلی کی گواہی ضروری ہے۔


اس درمیان ممبئی کے ایک پولیس افسر نے کہا کہ ہیڈلی مجرمانہ سازش کے بیشتر پہلو ؤں کو واضح کر سکتا ہے اور حملوں میں شامل تمام لوگوں کی معلومات بھی فراہم کر سکتا ہے۔

افسر نے کہا، وہ معاملے میں پاکستان کے کردار کو بھی طشت ازبام کر سکتا ہے۔ عدالت نے 10 دسمبر، 2015 کو ہیڈلی کو سرکاری گواہ بنایا تھا اور اسے 08 فروری کو عدالت کے سامنے گواہی دینے کی ہدایت دی تھی۔ فی الحال ممبئی حملوں میں اپنے کردار کے سلسلے میں امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیڈلی نے خصوصی جج جی اے سنپ سے کہا تھا کہ اگر اسے معاف کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دینے کو تیار ہے۔ جج نے ہیڈلی کو کچھ شرائط کی بنیاد پر سرکاری گواہ بنایا تھا اور اسے معافی دی تھی۔ ہیڈلی کا بیان جاری ہے۔


ہیڈلی نے اعتراف کیا کہ اس نے پاکستان میں تربیت لی ہے اور اس دوران اس نے پاکستان کے مظفر آباد کیمپ میں حافظ سعید سے بھی ملاقات کی تھیاور اسے حافظ سعیدسے ہی ہدایات ملتی تھیں۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 26 نومبر 2008 میں ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کوئی پہلی کوشش نہیں تھی۔اس سے پہلے ستمبر 2008 میں بھی ممبئی میں حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن دہشت گردوں کی کشتی ڈوب جانے کی وجہ سے یہ حملہ ناکام ہو گیا تھا۔


عدالت نے جب اسے ساجد میر کی تصویر دکھائی تو ہیڈلی نے اس کی شناخت کرتے ہوئے کہا کہ  وہ اسی شخص کے رابطہ میں تھا۔ اس نے بیان میں یہ بھی کہا کہ ساجد نے اسے ہندوستان میں کاروبار کرنے کی بھی صلاح دی تھی۔ گواہی شروع ہونے سے قبل دہشت گرد جندال کے وکیل نے گواہی کی مخالفت کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ بیان کے دوران عدالت میں ہیڈلی کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی اور دیگر امریکی افسران بھی موجود تھے۔ بعد میں جندال کے وکیل نے بھی سوالات پوچھنے کی اجازت مانگی۔

First published: Feb 08, 2016 11:56 AM IST