ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر میں درگاہ، مساجد اور عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ 

سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ممبئی اور ریاست کی 100 سے زائد خانقاہیں اور مساجد یہ مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں عبادتگاہیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں ہماری مشترکہ میٹنگ بھی ہوئی ہے۔ سبھی نے معاشرتی فاصلہ کے ساتھ درگاہیں، مساجد کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے لیکن سرکار نے اب تک اجازت نہیں دی ہے۔

  • Share this:
مہاراشٹر میں درگاہ، مساجد اور عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ 
حاجی علی درگاہ کی فائل فوٹو

ممبئی۔ ممبئی شہر ومضافات میں ایک مرتبہ پھر خانقاہیں، مساجد کھولنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ممبئی کے مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ ممبئی میں درگاہ حاجی علی رحمتہ اللہ علیہ اور ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی آستانہ سمیت ریاست کے تمام آستانہ خانقاہیں اور مساجد کھولنے کا مطالبہ آج یہاں حاجی علی اور ماہم درگاہ کے ٹرسٹ سہیل کھنڈوانی نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے سے ایک مکتوب ارسال کر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مطالبہ میں کہا ہے کہ معاشرتی فاصلہ کی برقراری سمیت کورونا وائرس کے لئے احتیاطی اقدامات کے ساتھ عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔


سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ممبئی اور ریاست کی 100 سے زائد خانقاہیں اور مساجد یہ مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ انہیں عبادتگاہیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں ہماری مشترکہ میٹنگ بھی ہوئی ہے۔ سبھی نے معاشرتی فاصلہ کے ساتھ درگاہیں، مساجد کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے لیکن سرکار نے اب تک اجازت نہیں دی ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں وزیر اعلی سے مطالبہ کیا ہے کہ خانقاہوں میں 50 فیصد زائرین  کو حاضری کی اجازت دی جائے اس کے علاوہ نصف عملہ کو کام پر مامور کیا جائے جبکہ درگاہوں پر خادم، مجاور اور دیگر عملہ کے ساتھ پھول فروش اور دیگر افراد کورونا کے سبب متاثر ہوئے ہیں اور درگاہیں بھی مالی تنگی کا شکار ہوگئی ہیں اس لئے ایسی حالت میں سرکار کو بھی خانقاہوں، مساجد اور مذہبی مقامات کو مالی اعانت فراہم کرنی چاہئے۔ کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے پانچ ماہ سے خانقاہیں اور مساجد بند ہیں ایسے میں مسلمانوں میں مایوسی پائی جارہی ہے۔


سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ خانقاہوں، عبادتگاہوں میں زائرین کی عقیدت ہے وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ خانقاہوں اور مساجد میں عبادت و ریاضت کر نے سے ان میں امید پیدا ہوتی ہے۔ ہر کسی کو مذہبی مقامات پر اعتبار ہے ایسی صورتحال میں سرکار ان کی امید ہی ان سے چھین رہی ہے۔ سرکار سے زیادہ عوام اپنے مذہبی مقامات اور خانقاہوں پر بلا تفریق مذہب و ملت حاضری دیتے ہیں اس لئے بازاروں کے بعد اب خانقاہیں اور عبادتگاہیں بھی کھولی جانی چاہئیں کیونکہ زیادہ دنوں تک عوام اس سے دور نہیں رہ سکتے اور تمام مذاہب کے افراد کو اپنے اپنے مذہبی مقامات خاص طور پر درگاہوں اور خانقاہوں سے الفت ہے۔ مذہبی مقامات کے بند رہنے سے عوام میں بے چینی بھی پائی جارہی ہے۔ جسے دور کرنا سرکار کی ذمہ داری ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 05, 2020 03:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading