உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر میں مذہبی عبادت گاہوں پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کی مانگ اب زورپکڑنے لگی

    ناندیڑ : کورونا کو پھلنےن سے روکنے کےلئے مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا مطالبہ اب زور پکڑنا لگا ہے۔ مختلف سایسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریاست کی ادھو ٹھاکرے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوششی کی جارہی ہے ۔

    ناندیڑ : کورونا کو پھلنےن سے روکنے کےلئے مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا مطالبہ اب زور پکڑنا لگا ہے۔ مختلف سایسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریاست کی ادھو ٹھاکرے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوششی کی جارہی ہے ۔

    ناندیڑ : کورونا کو پھلنےن سے روکنے کےلئے مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا مطالبہ اب زور پکڑنا لگا ہے۔ مختلف سایسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریاست کی ادھو ٹھاکرے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوششی کی جارہی ہے ۔

    • Share this:
    ناندیڑ :کورونا کو پھیلنے سے روکنے کےلئے مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا مطالبہ اب زور پکڑنا لگا ہے ۔مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے ریاست کی ادھو ٹھاکرے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوششی کی جارہی ہے ۔اس معاملے میں سب سے پہلے دلت رہنما و ونچت بہوجن اگھاڑی کے قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے سب سے پہلے آواز اٹھاتے ہوئے ریاست کی ادھو ٹھاکرے حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئےکہا کہ ۳۰ اگست تک مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندی نہیں ہٹائی گئی تو اس کےخلاف احتجاج کےلئے وہ پنڈھر پور جاکر وہاں کے مشہور معروف مند ر میں داخل ہوکر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کےخلاف احتجاج کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ’’میں وہاں اکیلا نہیں بلکہ اپنے ساتھ سیکڑوں کی تعداد میں عقیدت مندوں کو بھی ساتھ لے جاؤن گا۔

    اسی طرح کا مطالبہ اور نگ آباد سے ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے بھی کیا ہے انہوں نے بھی اورنگ آباد میں پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یکم ستمبر کو مہاراشٹر میں گنیش وسرجن کا پروگرام ہورہاہے ۔بڑی تعداد میں ہندو عقیدت مند گنیش مورتیوں کے وسرجن کےلئے جمع ہوتے ہیں اورمندروں کا رخ کرتے ہیں ۔اس لئے ریاستی حکو مت اب مذہبی عبادت گاہوں پر لگائی گئی پابندیاں ہٹادینی چاہئے۔ امتیاز جلیل نے انتباہ دیا کہ اگر یکم ستمبر تک ریاستی حکومت نے مذہبی عبادت گاہوں پر عائید کی گئی پابندیاں نہیں ہٹائی تو دو ستمبر کو وہ خود اورنگ آباد کی شاہی مسجد میں عوام کے ہجوم کے ساتھ جائیں گے اور مذہبی عبادت گاہوں پر لگائی گئی پابندیوں کو ختم کریں گے۔

    امتیاز جلیل کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت نے بازار ،ہوٹل اور ریسٹارنٹ ،شاپنگ مال،شادی خانہ ویگر اداروں پر لگائی گئی لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹادی ہےاسی طرح اب مذہبی عباد گاہوں پر لگائی گئی پابندیاں بھی ہٹادینی چاہئے لیکن اس معاملے میں ریاستی حکومت کوئی ہلچل نہیں کررہی ہے۔ لوگ مذہبی عباد ت گاہوں میں جانا چاہتے ہیں اپنے مذہبی احکامات پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔اسکے لئے وہ سماجی دوری ،ماسک کا استعمال اور ہینڈ سینی ٹائزر وغیرہ کے استعمال کا بھی بھروسہ دلارہے ہیں ۔اس لئے حکومت کو بھی اس معاملے میں اب مزید سختی سے کام نہیں لینا چاہئے ۔مہاراشٹر کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں مذہبی مقامات پر لگائی گئی پابندیاں ہٹادی گئی ہے۔

    مہاراشٹر میں بھی چند ایک مقامات کو چھوڑ کر ریاست کے دیگر مقامات پر کورونا کا مرض اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہاہے جیسا کہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا ۔لوگوں نے کورونا کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے ۔ اسی مسئلہ پر ناندیڑ میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے ایک وفد کی شکل میں ضلع کلکٹر سے ملاقات کی اورا نہیں مذہبی عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ۔اس وفد میں مند ر کے پجاری ،کرشن گرو بورلیکر ،سکھ سماج سے مہندر سنگھ پیدل ،بودھ سماج سے پیا بودھی بھنتے جی ،مولانا عظیم رضوی عیسائی مذہب رہنما پادری جوزیف بھی موجو دتھے ۔ان سبھی مذہبی رہنماؤں نے ریاستی حکومت کے نام ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے جس میں مذہبی عبادت گاہوں پر لگائی پابندی مرکزی حکومت نے ہٹانے کے احکامات دئے ہیں۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت مہاراشٹر میں مذہبی عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے یہ بات مناسب نہیں ہے۔

    مہاراشٹر حکومت نے ایک طرف شراب کی دکانیں ،گٹکا ،شاپنگ مال اور دیگر عوامی مقامات کو کاروبار کےلئے کھول دیا ہے ۔اسی طرح مذہبی عباد ت گاہیں کھولنے کی اجازت دینا ضروری ہے ۔جہاں تک کورونا کو پھیلنے سے روکنے کا سوال ہے تو اس معاملے میں لوگ بہت حد تک بیدار ہوچکے ہیں اور احتیاتی تدابیر اپنانے کا مزاج بن چکا ہے ۔مذہبی عبادت گاہوں پر بھی ماسک لگاکر اور سماجی دوری کا خیال رکھ کر ہی لوگ جانا چاہتے ہیں ۔اس پورے مسئلہ پر ریاستی حکومت پر بڑھتے جارہے دباؤ کے بیچ دو روز قبل شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کا بھی ایک بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کے بارے میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے جلد ہی کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں ۔اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جارہاہے ۔
    Published by:sana Naeem
    First published: