ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

محدود وسائل کے باوجود ایم پی ایس سی امتحان میں ناندیڑ کی وسیمہ شیخ نے حاصل کی نمایاں کامیابی 

وسیمہ شیخ نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے لڑکیوں میں تیسرا رینک حاصل کیا ہے اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے کیلئے منتخب کی گئی ہیں

  • Share this:
محدود وسائل کے باوجود ایم پی ایس سی امتحان میں ناندیڑ کی وسیمہ شیخ  نے حاصل کی نمایاں کامیابی 
ایم پی ایس سی امتحان میں ناندیڑ کی وسیمہ شیخ نے حاصل کی نمایاں کامیابی

ناندیڑ۔ سچی لگن سے کی جانی والی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس کی ایک مثال ان دنوں ناندیڑ کی ہونہار طالبہ وسیمہ شیخ نے پیش کی ہے۔ وسیمہ شیخ نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے لڑکیوں میں تیسرا رینک حاصل کیا ہے اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے کیلئے منتخب کی گئی ہیں۔


وسیمہ شیخ کا تعلق ناندیڑ ضلع کے عثمان نگر تعلقہ میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں جوشی سانگوی سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ذہنی طور پر معذور تھے جس کی وجہ سے والدہ کھیت میں مزدوری کیا کرتی تھیں۔جبکہ بھائی آٹو چلاکر گھر کے اخراجات اور بہن کی تعلیمی ضرورریات پوری کیا کرتے تھے۔ وسائل کی کمی ،غربت اور پسماندگی کے باوجود وسیمہ شیخ نے ہمت نہیں ہاری اور بغیر کسی کوچنگ کے اپنی ذاتی محنت کی بنیاد پر مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن جیسے مشکل ترین امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے سماج میں ایک بہترین مثال قائم کی۔


وسیمہ شیخ نے اپنے بچپن کی غربت کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہائی اسکول میں داخلہ لینے کیلئے ان کے پاس ساڑھے تین سو روپئے تک بھی نہیں تھے۔ بڑی مشکل سے انہوں نے ان پیسوں کا بندوبست کیا۔ وسیمہ شیخ کی ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں کے ایک مراٹھی اسکول میں ہوئی۔ گاؤں میں ہائی اسکول کا نظم نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں گاؤں سے دور عثمان نگر گاؤں میں جانا پڑتا تھا۔ دسویں میں 87 فیصد نمبر سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ذہن میں یہ بات طے کرلی کہ مقابلہ جاتی امتحان میں وہ ضرور اپنی قسمت آزمائیں گی۔ گاؤں میں جہالت کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کو صحیح نہیں سمجھاجاتا تھا۔ گاؤں کے لوگوں کی مخالفت کے باوجود وسیمہ شیخ کے بھائی نے اپنی بہن کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔


وسیمہ شیخ کا تعلق ناندیڑ ضلع کے عثمان نگر تعلقہ میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں جوشی سانگوی سے ہے۔


آج جب کہ وسیمہ شیخ ایم پی ایس سی کا امتحان پاس کر ڈپٹی کلکٹر بن گئی ہیں تو ان کے بھائی عمران شیخ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسیمہ شیخ کے بچپن سے ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ذہین ہے اور اعلی تعلیم حاصل کرسکتی ہے۔ اس لئے ہم نے اسے تعلیم کے تمام مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔غربت اور دیگر مسائل کے باوجود ہم نے اس کی تعلیم کے سلسلے کو کبھی بند نہیں کیا۔ آج جبکہ اس نے ایم پی ایس سی امتحان پاس کرلیا ہے ہمیں بہت زیادہ خوشی ہو رہی ہے۔وسیمہ شیخ کی والدہ سلیمہ بی نے بھی اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسیمہ کی کامیابی سے ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ہم نے اپنی غربت اور مفلسی کو اس کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا۔ لڑکیوں کی اعلی تعلیم کو لیکر گاؤں کے لوگوں کی مخالفت کے باوجود ہم نے اس کی تعلیم  کے سلسلہ کو جاری رکھا اور نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔

مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتاہے۔ اس میں حصہ لینے والے طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے جبکہ چند سو افراد کو ہی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ تحریری امتحان کے لئے انٹرویو کے مرحلے سے بھی گذرنا پڑتا ہے۔ ان تمام مراحل کو پارکرکے وسیمہ شیخ آج ایک کامیاب شخصیت بن کر ابھری ہیں جن کی چوطرفہ ستائش ہو رہی ہے۔
First published: Jun 27, 2020 08:17 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading