உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لاک ڈاؤن کا قومی پرچم کے کاروبار پر اثر، جھنڈا بنانے والے کاروباری نے بیان کیا اپنا درد

    Youtube Video

    لاک ڈاؤن نے اس گھریلو صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ فرزانہ کا کہنا ہیکہ قومی پرچم کی فروخت میں آنے والی گراوٹ کا سیدھا اثر ان خاندان پر بڑا ہے جو سال میں دو مرتبہ قومی تہواروں کےموقعوں پر ترنگا جھنڈا بناتے اور فروخت کرتے ہیں ۔

    • Share this:
    کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے جہاں عام زندگی اور کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ وہی اس کا قہر ان خاندان پر بھی برپا ہوا ہے۔ جو عوامی سطح پر حب الوطنی کے جذبے کے اظہار کیلئے قومی جھنڈے بنانے کا کام کرتے تھے۔ سال میں دو مرتبہ 26 جنوری اور 15 اگست کے موقع پرترنگے جھنڈےکے ذریعے لوگ ملک کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن کورونا وائرس اور لاک کی آفت سے یہ کاروبار بھی بچ نہیں سکا۔ ممبئی میں کئی ایسے خاندان ہیں جو اپنے گھروں میں قومی پرچم بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔

    لاک ڈاؤن نے اس گھریلو صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ممبئی کے کرلا علاقے کے قریش نگر میں رہنے والی فرزانہ کا کہنا ہیکہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ جھنڈوں کے آرڈر دستیاب ہوتے تھے لیکن گذشتہ سال سے جھنڈوں کی مانگ میں بھاری کمی آئی ہے۔ اس سال 20 لاکھ کی جگہ صرف بیس ہزار جھنڈے بنانے کا آرڈر ملا ہے۔ فرزانہ جیسے کئی خاندان کرلا اور ممبئی کے مختلف علاقوں میں قومی پرچم بنانے کا کام کرتے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے قومی پرچم کی مانگ میں گراوٹ کے سبب ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔واضح رہے کہ قومی پرچم بنانے والے یہ خاندان ممبئی کے بازاروں میں پرچم سپلائی کرتے ہیں اور اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔

    لاک ڈاؤن نے اس گھریلو صنعت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔


    فرزانہ کا کہنا ہیکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ممبئی اور مہاراشٹر میں اسکول اور کالج بند ہونے کی وجہ سے قومی پرچم کی فروخت میں گراوٹ درج کی گئی ہے اسکولوں اور کالج میں قومی تقریبات بھی منائی نہیں جارہی ہے اور بجے بھی اسکول نہیں جارہے ہیں۔ ایسے میں قومی پرچم کی فروخت میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے۔ قومی پرچم کی فروخت میں آنے والی گراوٹ کا سیدھا اثر ان خاندان پر بڑا ہے جو سال میں دو مرتبہ قومی تہواروں کےموقعوں پر ترنگا جھنڈا بناتے اور فروخت کرتے ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: