உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی کے اسلام جمخانہ میں قومی یکجہتی، بھائی چارے کے فروغ اور اردو صحافت کے دوسال کی تکمیل پر عید ملن پروگرام کا کیا گیا انعقاد

     ڈاکٹر پاٹنکر نے کہاکہ ملک کا 90 فیصد ہندو اچھا ہے, صرف دس فیصد ہی فرقہ پرستوں کی زد میں ہے۔ ہمیں ملک کی نوے فیصد سے بہتر تعلقات پیدا کرنا چاہئے اور ان کے روبرو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہئے۔

    ڈاکٹر پاٹنکر نے کہاکہ ملک کا 90 فیصد ہندو اچھا ہے, صرف دس فیصد ہی فرقہ پرستوں کی زد میں ہے۔ ہمیں ملک کی نوے فیصد سے بہتر تعلقات پیدا کرنا چاہئے اور ان کے روبرو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہئے۔

    ڈاکٹر پاٹنکر نے کہاکہ ملک کا 90 فیصد ہندو اچھا ہے, صرف دس فیصد ہی فرقہ پرستوں کی زد میں ہے۔ ہمیں ملک کی نوے فیصد سے بہتر تعلقات پیدا کرنا چاہئے اور ان کے روبرو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہئے۔

    • Share this:
    ممبئی : ملک کے موجودہ حالات میں امن امان اور بھائی چارےکی فضا ہموار کرنے کیلئے ممبئی کے اسلام جمخانہ میں عید ملن پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا۔ انڈوعرب سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر کی صدارت میں منعقد ہونے والے عید ملن پروگرام میں ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کی بااثر شخصیات نے شرکت کیں اور امن و بھائی چارے کے فروغ پر زوردیا۔ اس موقع پر اردو صحافت کا دوسوسالہ جشن بھی منایا گیا ۔اس موقع پر انڈو عرب سوسائٹی کے صدر اور اسلام جمخانہ کے نائب صدر ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر نے کہاکہ ملک میں جس طرح کے حالات رونما ہورہے ہیں ۔ ان حالات میں بھائی چارے اور امن و امان کا پیغام دینا نہایت ہی ضروری ہے ۔

    ڈاکٹر پاٹنکر نے کہاکہ ملک کا 90 فیصد ہندو اچھا ہے, صرف دس فیصد ہی فرقہ پرستوں کی زد میں ہے۔ ہمیں ملک کی نوے فیصد سے بہتر تعلقات پیدا کرنا چاہئے اور ان کے روبرو اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے اس ملک کے غیر مسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے واقف کروانے کے کام میں سستی اور کاہلی سے کام لیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر پاٹنکر نے مسلمانوں کو ٹکراؤ سے بچنے اور اپنی قوت تعلیم اور معاشی بہتری میں صرف کرنے کا مشورہ دیا۔ جشن اور بھائی چارے کے اس ماحول کو پُر مسرت بنانے اورہندوستان کی مشترکہ تہذیب کاجشن منانے کیلئے غزل کی محفل کا بھی سجائی گئی۔ محفل غزل میں پرتھوی گندھرو اور ان کے ساتھیوں نے غزل کا سماع باندھا اور کلاسیکل اور صوفیانہ کلام سے سامعین کا دل جیتا۔ اس محفل میں سپریم کورٹ کے وکیل آر۔ کے ۔ شرما, معروف شاعر ساگرد ترپاٹھی ۔ آئی پی ایس افسر قیصر خالد, سابق وزیر حکومت مہاراشٹر انیس احمد سمیت شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔اسلام جمخانہ کے صدر اور سابق رکن اسمبلی یوسف ابراہانی نے ملک کی سالمیت کیلئے بھائی چارے اور میل ملاپ کو امن وامان کیلئے ضروری قراردیا۔

    Umran Malik بولے، بلے بازوں کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر مزہ آتا ہے، جانئے ایسا کیوں کہا؟

    انہوں نے کہاکہ اس ملک میں ہندو اور مسلمان اور دیگر مذاہب کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں یکجہتی و سالمیت کا ماحول قائم رکھیں اور فرقہ پرستوں کے عزائم کو پست کردیں۔اس موقع پراردو صحافت کے دوسو سالہ جشن کے حوالے سے ڈاکٹر محمد عملی پاٹنکرنے کہاکہ اردو صحافت نہ صرف ہماری تہذہبی وراثت کا حصہ ہے بلکہ ہندوستان کی تاریخ میں دستاویز کی حیثیت کی حامل ہے۔

    PLEASE بچوں کے علاج کیلئے دونوں کو ویزا دیں، پاکستانی والدین کی ہندستان سے گہار

    اردو صحافت کے دوسوسال کا جشن منانا ور اسے مزید دوسوسال تک زندہ رکھنے کیلئے کوشیشیں کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں اہلیان اردو سے ملک کے ہر گوشے میں اردو صحافت کی دوسالہ تاریخ اور کارکردگی کا جشن منانے کی اپیل کی۔ ڈاکٹر پاٹنکر نے کہاکہ اردو صحافت کی شروعات 1822 میں جامِ جہاں نما سے کلکتہ ہوتی ہے۔ایک ہندو برہمن اس اخبار کو شروع کرتا ہے۔ کئی ہندومالکان اور صحافیوں نے اردو صحافت فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اردو زبان اور صحافت میں مزاج میں روزِ اول سے ہی سیکولرازم اور مشترکہ تہذیب رچی بسی ہوئی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: