ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بامبے ہائی کورٹ میں عیدالاضحیٰ پر قربانی کو لیکر مفادِ عامہ کی عرضداشت داخل

عرضداشت میں قربانی کی اجازت اور اس تعلق سے دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • Share this:

عیدالاضحیٰ  Eid ul Azha  میں خصوصاََ بڑے کے جانوروں کی قربانی کے تعلق سے اجازت نہ دینے اور اپنے موقف کو واضح نہ کرنے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضداشت داخل کی گئی ہے۔ عرضداشت میں قربانی کی اجازت اور اس تعلق سے دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضداشت بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتاّ اور جسٹس گریش کلکرنی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے داخل کی گئی ہے۔ عرضداشت میں معزز ججوں سے فریضہ ء قربانی کی ادائیگی اور تین روز قربانی کیلئے دیونارمذبح میں حفاظتی بندوبست اور دیگر انتظامات کئے جائیں تاکہ قربانی کا گوشت لانے اور لیجانے میں کوئی دقت نہ ہو ساتھ ہی قربانی کرنے اور دوافراد کو مذبح میں جانے کی اجازت کا

مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاکہ کووڈ پروٹوکول پر عمل آوری ہوسکے ۔قربانی کے متعلق مفادِ عامہ کی عرض داشت کو القریش ہیومن ویلفیئر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عرضداشت میں حکومت مہاراشٹر اور اس کےمختلف شعبوں وزراتِ داخلہ، مویشی پالن، میونسپل کارپوریشن اور دیونار مذبح کے جنرل منیجر کو فریق بنایا گیا ہے۔


القریش ییومن ویلفیئر کے جنرل سیکریٹری محمد عمر نے بتایا کہ گذشتہ سال ہائی کورٹ نے زبح کئے جانے والے جانوروں کی تعداد مقرر نہیں کی تھی بلکہ دیونار مذبح اور

ممبئی اعظمیٰ میونسپل کارپوریشن نے جانوروں کے ذبح کی تعداد مقرر کی تھی جس کی وجہ سے کئی لوگ فریضہ ء قربانی سے محروم رہے گئے تھے اور جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تھا اس لئے اس سال عرضداشت میں جانوروں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ قربانی کی اجازت دی جائے

Published by: Sana Naeem
First published: Jul 16, 2021 03:44 PM IST