உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روزگار، کاؤنسلنگ اور کارروائی، تین طریقوں سے شراب بنانے والوں کو سدھارنے کی کوششش

    اس آپریشن کی کمان فی الحال پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسوی ستپوتے خود سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دیہی علاقوں کے کئی دیہات میں کچھ خاندان کئی نسلوں سے غیر قانونی اور مہلک شراب بنانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

    اس آپریشن کی کمان فی الحال پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسوی ستپوتے خود سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دیہی علاقوں کے کئی دیہات میں کچھ خاندان کئی نسلوں سے غیر قانونی اور مہلک شراب بنانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

    اس آپریشن کی کمان فی الحال پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسوی ستپوتے خود سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دیہی علاقوں کے کئی دیہات میں کچھ خاندان کئی نسلوں سے غیر قانونی اور مہلک شراب بنانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ان دنوں پولیس کی جانب سے مہاراشٹر کے شولاپور ضلع کے دیہی علاقوں میں 'آپریشن تبدیلی' چلایا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کی کمان فی الحال پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجسوی ستپوتے خود سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے دیہی علاقوں کے کئی دیہات میں کچھ خاندان کئی نسلوں سے غیر قانونی اور مہلک شراب بنانے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ شولا پور پولیس نے ایسے لوگوں کو صحیح راستے پر لانے کے لئے یہ مہم شروع کی ہے۔

    تیجسوی ستپوتے نے کہا کہ پولیس کئی سالوں سے ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن یہ مکمل طور پر نہیں رکی ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں اور خاندانوں کی کونسلنگ کی جا رہی ہے تاکہ انہیں اس غلط کاروبار سے باہر نکالا جا سکے۔ پولیس کی مہم اب آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔

    کارروائی کے دوران یہ جاننے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ لوگ نسل در نسل اس غلط کاروبار میں کیوں ملوث ہو رہے ہیں۔ جس میں ایک بڑی وجہ سامنے آئی کہ دیہاتیوں کے پاس روزگار دستیاب نہیں ہے.ایسی صورت حال میں مقامی پولیس ، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اب ایسے لوگوں کو منریگا اور وزارت ہنر ترقی کے ذریعے روزگار فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاکہ غیر قانونی کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی قانونی ملازمت مل سکے اور یہ لوگ بھی ایک معزز شہری کی طرح زندگی گزار سکیں۔

    ستپوتے نے بتایا کہ روزگار فراہم کرنے کے بعد بھی جو لوگ اس غیر قانونی کاروبار کو نہیں چھوڑتے۔ پولیس ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرتی ہے۔ پولیس ہر تین سے چار دن بعد ایسے لوگوں پر نظر رکھے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: