உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حاملہ خاتون نے اسپتال کے وارڈ میں کھڑکی سے کود کر ڈالاکچھ ایسا، پولیس اور اہل خانہ کے اڑ گئے ہوش

    اس کے بعد اسپتال سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ہرسانی پھانٹا کے پاس خاتون کو پکڑ لیا گیا۔ حاملہ خاتون کے ملنے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور پولیس نے راحت کی سانس لی ہے۔

    اس کے بعد اسپتال سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ہرسانی پھانٹا کے پاس خاتون کو پکڑ لیا گیا۔ حاملہ خاتون کے ملنے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور پولیس نے راحت کی سانس لی ہے۔

    اس کے بعد اسپتال سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ہرسانی پھانٹا کے پاس خاتون کو پکڑ لیا گیا۔ حاملہ خاتون کے ملنے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور پولیس نے راحت کی سانس لی ہے۔

    • Share this:
      باڑمیر ہندستان ۔ پاک سرحد پر بسا بڈمیر (Barmer) کا ضلع اسپتال ایک بار پھر سرخیوں میں ہے یہاں داخل ایک حاملہ عورت (Pregnant woman ) آپریشن کے ڈر سے (Fear of مہیلا وارڈ کی کھڑکی سے کود کر بھاگ گئی۔ اہل خانہ کی اطلاع کے بعد اسپتال انتظامیہ میں ہنگامہ مچ گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے کوتوالی پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد اسپتال سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ہرسانی پھانٹا کے پاس خاتون کو پکڑ لیا گیا۔ حاملہ خاتون کے ملنے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور پولیس نے راحت کی سانس لی ہے۔ باڑمیر کا ضلع اسپتال 9 جولائی کو اس وقت بھی سرخیوں مین آیا تھا جب یہاں سے 3 دن ک معصوم غائب ہو گئی تھی۔

      اطلاع کے مطابق سکھ سنکھ کی بیوی کی پہلی ڈلیوری آپریشن سے ہونی تھی۔ اس کیلئے ضلع اسپتال کے مہیلا وارد میں انہیں داخل کیا گیا تھا۔ سرج ڈلیوری آپریشن سے نہیں چاہتی تھی۔ وہ آپریشن کے نام سے کافی خوفزدہ تھی۔ آپریشن سے گھبرائی سروج بدھ کی صبح وارڈ کی لکھڑکی میں لگی جالی کو ہتا کر وہاں سے فرار ہو گئی۔ اہل خانہ کو صبح تقریبا سات بجے اس کا پتہ چلا۔ انہوں آنا فانا اسپتال انتظامیہ اور کوتوالی پولیس کو اس کی اطلاع دے دی۔ اس کے بعد خاتون کی تلاش شروع کی گئی ۔ پولیس نے سخت مشقت کرکے ضلع اسپتال سے تقریبا 10 کلومیٹر دور ہرسانی پھانٹا کے پاس خاتون کو پکڑ لیا اور اسے دوبارہ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

      ڈاکٹر کملا ورما کے مطابق آپریشن کے ڈر سے حاملہ اسپتال کی کھڑکی سے کود کر بھاگ گئی تھی اس ک اطلاع کوتوالی پولیس کو دی گئی۔ اس کے بعد تقریبا دوپیر ایک بجے خاتون کو ڈھونڈ کر اسپتال میں دوبارہ داخل کرایا گیا اس کی طبیعت ٹھیک ہے۔ اسپتال میں اس کا علاج جاری ہے وہ آپریشن کے نام سے گھبرائی ہوئی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: