உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Thane Civic Polls: تھانے میں انتخابات میں سیو سینا کی قسمت کا ہوگا فیصلہ! مقابلہ ہوگا سخت

    تھانے میں انتخابات میں سیو سینا کی قسمت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    تھانے میں انتخابات میں سیو سینا کی قسمت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    پانچ دہائیوں کے بعد سینا میں پھوٹ پڑی۔ جس کی قیادت اب مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے (Eknath Shinde) کررہے ہیں۔ جو کہ تھانے کے آنجہانی رہنما آنند دیگھے کے حامی ہیں، اس کی وجہ سے بہت سے ماہرین پارٹی کے وجود پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

    • Share this:
      شبھم چوہان

      بالاصاحب ٹھاکرے (Balasaheb Thackeray) کی آواز 2012 میں تھانے کے گاوندیوی میدان میں ایک جلسہ عام میں گونجی تھی۔ جو شہر میں ان کی آخری آواز تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ تھانے میرا پسندیدہ شہر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پہلی بار شیو سینا کا بھگوا (زعفرانی) جھنڈا لہرایا گیا تھا۔ 1966 میں اس کی بنیاد رکھنے کے ٹھیک ایک سال بعد شیوسینا نے 40 میں سے 17 سیٹیں جیتی تھیں۔ اسے ممبئی سے ملحقہ شہر تھانے کے میونسپل انتخابات (municipal polls of Thane) میں پہلی بار طاقت کا مزہ چکھنا پڑا۔

      پانچ دہائیوں کے بعد سینا میں پھوٹ پڑی۔ جس کی قیادت اب مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے (Eknath Shinde) کررہے ہیں۔ جو کہ تھانے کے آنجہانی رہنما آنند دیگھے کے حامی ہیں، اس کی وجہ سے بہت سے ماہرین پارٹی کے وجود پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ تھانے کے سابق کارپوریٹروں سے لے کر ایم ایل اے اور دیگر کئی لیڈران نے شندے کو اپنی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

      پنچپاکھڈی کے ایک ایم ایل اے ایکناتھ شندے نے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیتے ہوئے بالا صاحب اور آنند دیگے دونوں کے نام پر وعدہ کیا۔ اپنی بغاوت کے دن سے انھوں نے سابق سینا کے نظریے اور مؤخر الذکر کی میراث کو آگے بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ جب کہ معزول چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے (Uddhav Thackeray) نے اپنے حالیہ دو حصوں کے سامنا (Saamana) انٹرویو میں یقین دہانی کرائی کہ تھانے کے ووٹر باغیوں کو سبق سکھائیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات دونوں کیمپوں کے لیے سخت کشکمش کا سبب بنیں گے۔

      تھانے میں ’ون مین سینا‘:

      تھانے میں شیو سینا کی کامیابی خاص طور پر 1980 کی دہائی سے شروع ہوئی تھی۔ جس کا سہرا آنند دیگھے کو جاتا ہے۔ انہیں تھانے کے ٹھاکرے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ دیگھے کم عمری میں 1984 میں پارٹی کے تھانے ضلعی صدر بنے۔ وہ اپنی مضبوط بازو کی حکمت عملیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، وہ سریدھر کھوپکر کے قتل کا ملزم تھے، جو کہ سینا کے کارپوریٹر تھے۔

      سینئر صحافی سجتا آنندن نے نیوز 18 کو بتایا کہ یہ آنند دیگے ہی تھے جنہوں نے بال ٹھاکرے (تھانے میں) کو پیسہ اور طاقت فراہم کی، جو شندے ادھو ٹھاکرے کو فراہم کر رہے تھے۔ دیگھے نے ضلع کے لیڈروں کی موجودہ فصل کی بھی رہنمائی کی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      افغانستان: Kabul کی ایک مسجد میں بڑا دھماکہ، امام سمیت 30 افراد کی موت، 50 زخمی

      Mukhtar Ansari پر ED کی بڑی کارروائی، یوپی سے دہلی تک مافیہ کے 11 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری

      ناندیڑ: جنید پٹھان نے UPSC کے تحت لئے جانے والے EPFO امتحان میں حاصل کی کامیابی

      پاکستان کی جانب سے جموں میں ڈرون سے بھیجے گئے ہتھیار و گولہ۔بارود برآمد، ایک دہشت گرد ڈھیر

      آنند دیگے کا 2001 میں تھانے کے سنگھانیہ ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا تھا۔ سینا کے ناراض کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور اسپتال کے کچھ حصوں کو جلایا، طبی آلات کو توڑ دیا اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا تاکہ اپنے لیڈر کے نقصان پر سوگ منایا جاسکے۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ تھانے میں انتخابات میں سیو سینا کی قسمت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: