ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گجرات اے ٹی ایس نے داؤد ابراہیم کے کارندے بابو سولنکی کو کیا گرفتار، 14سال سے تھا فرار

اے ٹی ایس ذرائع نے بتایا کہ بابو سولنکی 2006 کے ایک گینگ وارکے کے کیس میں وانٹیڈ ہے۔ فی الحال وہ شریف خان کے لیے کام کر رہا تھا جو کہ داؤد ابراہیم کا خاص ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شریف خان مبینہ طور پر پاکستان میں چھپا بیٹھا ہے۔ سولنکی کے خلاف گجرات کے ٹی ایس جبرن وصولی جرائم دھمکی جرائم سازش سمیت دیگر معاملوں کی جانچ کر رہی تھی۔

  • Share this:
گجرات اے ٹی ایس نے داؤد ابراہیم کے کارندے بابو سولنکی کو کیا گرفتار، 14سال سے تھا فرار
علامتی تصویر

گجرات پولیس (Gujarat Police) کے اے ٹی ایس (ATS) کو سنیچر کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی سے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ( Dawood Ibrahim)  کے کارندے بابو سولنکی (Babu Solanki) کو گرفتار کیا ہے۔ سولنکی گزشتہ 14سال سے فرار چل رہا تھا۔ بہت داؤد ابراہیم کا داہنا ہاتھ مانا جاتا ہے۔ بابو سولنکی مہسانہ کے انجھا کا رہنے والا ہے‌ اور ممبئی سے آپریٹ کرتا ہے۔

اے ٹی ایس ذرائع نے بتایا کہ بابو سولنکی 2006 کے ایک گینگ وارکے کے کیس میں وانٹیڈ ہے۔ فی الحال وہ شریف خان کے لیے کام کر رہا تھا جو کہ داؤد ابراہیم کا خاص ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شریف خان مبینہ طور پر پاکستان میں چھپا بیٹھا ہے۔ سولنکی کے خلاف گجرات کے ٹی ایس جبرن وصولی جرائم دھمکی جرائم سازش سمیت دیگر معاملوں کی جانچ کر رہی تھی۔

اے ٹی ایس ذرائع کی مانیں تو ان انجھا میں واقع ایک شیئرس کمپنی میں کام کرنے والے پر گنیش پٹیل نام کے شخص کے شیئرس اس کے دو پارٹنر نے بیچ دیے تھے۔ اس کے لیے پرگنیش کو 10 کروڑ روپیے دیے جانے تھے لیکن پارٹنر نلیش شاہ اور جگر چوکسی بےایمانی کر گئے۔ ان دونوں سے پیسے نکالنے کے لیے پر گنیش نے بابو سولنکی عرف راجو اور آئی ایس آئی کے مبینہ ایجنٹ صابر میاں کو کانٹریکٹ دیا۔ سولنکی کو اس کے لئے 3 کروڑ روپیے ملنے تھے۔



دوکاروباریوں سے وصولی کا لیا تھا کانٹریکٹ
ادھر نلیش شاہ اور جگر چوکسی نے محمد عتیق عرف جہانگیر اور اقبال پٹیل کو ہائر کیا۔ بابو سولنکی اور صابر میاں سے مقابلہ کرنے کا کانٹریکٹ دیا۔ اس درمیان پولیس نے جہانگیر اور صابر میاں کو گرفتار کرلیا۔ صابر میاں کے پاس پستول سمیت سات زندہ کارتوس برآمد کیے۔ پولیس نے ان دونوں کے خلاف کئی سنگین دفعات میں کیس درج کر کے جیل میں ڈال دیا۔
لوٹ پاٹ، قتل، وصولی سمیت کئی معاملوں میں کی درج
اے ٹی ایس  (ATS)کے ڈی آئی جی ہمانشو شکلا نے کہا کہ بابو سولنکی اس واقعے کے بعد سے فرار ہوگیا تھا اور ممبئی میں رہنے لگا تھا۔ پھر ممبئی سے وہ لوٹ پاٹ، قتل، وصولی، فروتی جیسے کارناموں کو انجام دینے لگا۔ 2006میں بابو سولنکی کو فروتی کے ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ سولنکی کیخلاف 2008 میں 32 لاکھ کی لوٹ، 1996 میں ممبئی میں قتل، 2015 میں سدھ بپور میں ڈکیتی‌ اور 2019 میں فرضی پولس والا بننے جیسے سنگین معاملوں میں کیس درج ہے۔‌
First published: May 24, 2020 07:40 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading