اپنا ضلع منتخب کریں۔

    گجرات میں موسلا دھار بارش، 1500 سے زیادہ لوگوں کو نکالا گیا، احمد آباد میں اسکول، کالج بند

    رپورٹ کے مطابق  سیلاب کے درمیان ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک تقریباً 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ گجرات کے نوساری ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے ندیوں کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سیلاب کے درمیان ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک تقریباً 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ گجرات کے نوساری ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے ندیوں کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سیلاب کے درمیان ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک تقریباً 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ گجرات کے نوساری ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے ندیوں کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      گجرات کے کئی اضلاع میں گزشتہ چند دنوں سے جاری موسلادھار بارش کے باعث سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ولساڈ، نوساری، تاپی سمیت کئی دیگر اضلاع میں شدید بارش ہوئی ہے۔ گجرات کے کھیڑا ضلع کے ناڈیاڈ کے مختلف علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ احمد آباد، پالڈی، بوداک دیو، عثمان پورہ اور جودھ پور میں بھی مسلسل بارش کے ساتھ پانی جمع دیکھا گیا۔ احمد آباد میں گزشتہ تین دنوں میں سیزن کی 30 فیصد بارش ہوئی ہے۔

      انڈیا ٹی وی کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے درمیان، گجرات کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر راجندر ترویدی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر احمد آباد میونسپل کارپوریشن نے پیر کو شہر میں اسکول اور کالج بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھوٹا ادے پور میں اتوار کو مسلسل بارش کی وجہ سے ایک پل کا ایک حصہ بھی گر گیا ہے۔

      امرناتھ یاترا شروع ہونے کے کچھ دیر بعد رکی، خراب موسم کے باعث لیا گیا فیصلہ

       

      ہندوستان میں اب تک کا سب سے بڑے مقامی بحری جہاز کی تیاری، INS Vikrant کی سمندری مشق مکمل

      جبکہ ہندوستان ٹائمز کی خبر میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے درمیان ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک تقریباً 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ گجرات کے نوساری ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے ندیوں کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔ نوساری ضلع میں کاویری اور امبیکا ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ضلع کلکٹر امت پرکاش یادو نے کہا کہ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔ اب تک 300 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک کمپنی کی مدد سے آپریشن جاری ہے۔ این ڈی آر ایف اور مقامی انتظامیہ کی کئی ٹیموں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحت کا کام کیا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: