உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات : لڑکی نے ٹرین میں کی خودکشی ، ڈائری میں لکھی تھی ایسی بات، پڑھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش

    گجرات : لڑکی نے ٹرین میں کی خودکشی ، ڈائری میں لکھی تھی ایسی بات، پڑھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش

    گجرات : لڑکی نے ٹرین میں کی خودکشی ، ڈائری میں لکھی تھی ایسی بات، پڑھ کر سبھی کے اڑگئے ہوش

    Gujarat Girl Suicide Gangrape : مرنے والی لڑکی ولساڑ میں رہتی تھی اور وڈودرا کے ایک کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی ۔ وڈودرا میں وہ گرل ہاسٹل میں رہتی تھی اور ایک سماجی ادارہ کے ساتھ کام کرتی تھی ۔

    • Share this:
      احمد آباد : دیوالی کے دن گجرات کے ولساڑ ریلوے اسٹیشن پر گجرات کوئن ٹرین کے کوچ نمبر ڈی 12 میں ایک لڑکی کی پھانسی پر لٹکتی ہوئی لاش ملی تھی ۔ اب اس معاملہ میں لڑکی کے گھر سے ملی ڈائری سے وڈودرا میں اس کی اجتماعی آبروریزی کا انکشاف ہوا ہے ۔ مرنے والی نے ڈائری میں لکھا ہے کہ دیوالی سے دو دن پہلے دو آٹو ڈرائیور نے اغوا کرکے اس کی اجتماعی آبروریزی کی تھی ۔ پولیس ملزمین کی تلاش میں مصروف ہوگئی ہے ۔ وڈودرا کرائم برانچ نے اتوار رات کو دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے ۔

      گجرات کوئن ٹرین چار نومبر کی صبح ولساڑ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تھی ۔ اس کے بعد ٹرین کی صفائی کررہے ایک صفائی ملازم نے پھندے سے لٹکتی لڑکی کی لاش کو دیکھا اور ولساڑ کے اسٹیشن ماسٹر اور جی آر پی ٹیم کو مطلع کیا ۔ ولساڑ جی آر پی کی جانچ میں مرنے والی لڑکی کے پاس سے ٹرین کا ٹکٹ نہیں ملا تھا ۔ حالانکہ اس کے پاس ملے موبائل فون سے پولیس نے اس کے کنبہ سے رابطہ کرلیا تھا ۔ اس کے بعد معلوم ہوا ہے کہ مرنے والی لڑکی ولساڑ میں رہتی تھی اور وڈودرا کے ایک کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی ۔ وڈودرا میں وہ گرل ہاسٹل میں رہتی تھی اور ایک سماجی ادارہ کے ساتھ کام کرتی تھی ۔

      مرنے والی لڑکی کے گھر سے اس کی ڈائری ملی ہے ، جس میں اس نے لکھا کہ دھنتیرس کے دن وہ شام کو اپنے روم پر لوٹ رہی تھی ۔ اسی دوران دو شخص اس کا پیچھا کرنے لگے ۔ اس وقت لڑکی نے وہ جس ادارہ میں کام کرتی تھی ، اس ادارہ کی ایک دوست کو میسیج کرکے بتایا کہ دو لوگ اس کا پیچھا کررہے ہیں ۔ تبھی دو لوگ لڑکی کو دھمکی دے کر وڈودرا کے ایک میدان میں لے گئے اور باری باری اس کی آبروریزی کی ۔ اس کے بعد ملزمین فرار ہوگئے ۔

      اس کے بعد پاس سے گزر رہی ایک بس کے ڈرائیور نے روم تک پہنچنے میں اس کی مدد کی تھی ۔ پولیس نے اس بس ڈرائیور کی تلاش کرکے اس سے پوچھ گچھ کی تھی ، جس میں بس ڈرائیور نے کہا کہ میں شام کو بس پارک کرنے کو پہنچا تو وہاں لڑکی ایک پیڑ کے نیچے آدھی ننگی کھڑی تھی ۔ اس لڑکی نے بتایا کہ اس کی آبروریزی ہوئی ہے ۔ لڑکی نے بتایا کہ دو نوجوانوں نے میرے ہاتھ باندھ دئے اور پھر میری آبروریزی کی ۔ اپنے کپڑے پاکر اس نے انہیں پہن لیا اور اپنی سہیلی کے پاس پہنچ گئی ۔

      بس ڈرائیور نے کہا کہ لڑکی نے آگے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اسی درمیان ایک چچا وہاں آگئے ۔ بعد میں چچا اور میں نے ایک موبائل ٹارچ کی مدد سے لڑکی کے ذریعہ دکھائے گئے جگہ سے اس کی پینٹ اور چپل لے آئے ۔ لیگنگ پھٹی ہوئی تھی ۔ کپڑے پہننے کے بعد اس نے اپنی دوست کو میرے موبائل سے فون کیا ۔ سہیلی کو چکلی سرکل کے پاس آنے کیلئے کہا گیا ۔ لڑکی کو چکلی سرکل لے جایا گیا ، جہاں اس کی دوست آئی اور دونوں چلی گئی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: