ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گلبرگہ سے گرفتار پانچ علمائے کرام کو مقدمے سے ڈسچارج پر بحث مکمل، آئندہ سماعت تک فیصلہ محفوظ

ممبئی۔ انسانی بلی دینے کے الزام میں گلبرگہ واطراف سے اگست 2014 میں گرفتار کئے گئے علمائے کرام کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی بحث گلبرگہ سیشن عدالت میں مکمل ہوچکی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 24, 2016 08:53 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گلبرگہ سے گرفتار پانچ علمائے کرام کو مقدمے سے ڈسچارج پر بحث مکمل، آئندہ سماعت تک فیصلہ محفوظ
علامتی تصویر

ممبئی۔ انسانی بلی دینے کے الزام میں گلبرگہ واطراف سے اگست 2014 میں گرفتار کئے گئے علمائے کرام کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی بحث گلبرگہ سیشن عدالت میں مکمل ہوچکی ہے اور عدالت نے اگلی سماعت تک اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اس پر فیصلہ آئندہ ماہ کے اوائل میں ہونے کی توقع ہے۔ یہ اطلاع یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل سکریٹری اور مشہور کریمنل وکیل ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے دی ہے۔ دفتر جمعیۃ علماء مہاراشٹر سے میڈیا کے لئے جاری اپنے بیان میں ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے بتایا کہ جن 5 علماء کرام کو گرفتار کیا گیا تھا، انہیں ابتداء میں غیرقانونی حراست میں رکھا گیا تھااور اس دوران پولیس کی تشدد سے ایک ملزم کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس کے بعد اس ڈر سے کہ بقیہ ملزمین کو اگررہا کردیا گیا تو پولیس حراست میں ہوئی موت کا راز فاش ہوجائے گا، پولیس نے ان تمام پر تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ان پر انسانی جان کی بلی دینے کا الزام عائد کردیا لیکن جب یہ معاملہ عدالت پہنچا تو عدالت نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ پولیس کی جانب سے پیش کئے جانے والے ثبوت وشواہد ناکافی ہیں، ملزمین کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔


اس کے بعد ہم نے تمام ملزمین کو مقدمے سے بری کرنے کی درخواست گلبرگہ سیشن عدالت میں داخل کی تھی ، جس پراب جاکر بحت مکمل ہوچکی ہے اورعدالت نے آئندہ سماعت تک اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو توقع ہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ان ملزمین کے خلاف جو چارج شیٹ عدالت میں پیش کی ہے ، وہ سراسر بے بنیاد ہے اور اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے قانون کی زبان میں صحیح معنوں میں ثبوت کہا جاسکے۔ پولیس نے عدالت کے سامنے ملزمین کا اقبالِ جرم پیش کیا ہے جو انہوں نے ملزمین سے دورانِ حراست لیا ہے۔ وہ اعتراف جرم آئی پی سی کی دفعہ25 کے تحت عدالت میں ناقابلِ تسلیم ہے اور عدالتیں ایسے اقبالِ جرم کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کرتیں۔

دوسرا ثبوت پولیس کی جانب سے ایک ملزم کا اپنی بیوی کے سامنے اعتراف نامہ ہے ، یہ بھی پری ویلیج کمیونی کیشن کے تحت عدالت تسلیم نہیں کرتی ۔ کیونکہ عدالت میں بیوی کی گواہی شوہر کے لئے یا شوہر کی گواہی بیوی کے لئے ناقابلِ تسلیم ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ پوری چارج شیٹ میں ان ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت وشواہد نہیں ہے ، نہ کوئی راست یا بالراست ثبوت ہے ۔ اس وجہ سے یہ مقدمہ خود بخود عدالت میں منہ کے بل گرجانا چاہئے، مگر سرکاری وکیل اس مقدمے کو چلانے پر بضد تھے ۔

ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق ہم نے انہیں بنیادوں پر عدالت میں ان ملزمین کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست دی تھی ، جس پر بحث مکمل ہوچکی ہے۔ ہم نے قانونی دلائل اور ثبوت وشواہد کی بنیاد پر پولیس کی چارج شیٹ پر بحث کی ہے۔ ہمارے ساتھ اس مقدمے کی پیروی کرنے میں ایڈووکیٹ لیاقت فرید کا بھی ساتھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگست 2014 میں گلبرگہ ودیگر مقامات سے پولیس نے ۶علماء کرام کو توہم پرستی مخالف قانون کے تحت گرفتارکیا تھا اور ان پر خزانے کے لئے ایک بچی کی بلی دینے کا الزام عائد کیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گرفتار شدگان میں اس بچی کے والد بھی تھے جس کی بلی دی گئی تھی۔21؍اگست2014 میں ایک بچی کا اغواء ہوا تھا جس کی گمشدگی کی رپورٹ اس کے والد نے اسی روزشہر کے فرحت آباد پولیس اسٹیشن میں درج کرادی تھی۔

First published: Nov 24, 2016 08:53 AM IST