ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

حج 2018 : سعودی حکومت کے نئے فرمان کے بعد مسلم تنظیموں سے وابستہ افراد میں شدید ناراضگی

سال رواں حج کے سفر پر جانے والے عازمین کو دوہری مار جھیلنی پڑ رہی ہے ۔ جہاں ایک طرف سبسڈی ختم کر دی گئی ہے ، وہیں دوسری طرف سعودی حکومت مختلف طرح کے ٹیکس نافذ کر کے عازمین کے سفر حج کو مزید مہنگا بنا دیا ہے ۔

  • Share this:
حج 2018 : سعودی حکومت کے نئے فرمان کے بعد مسلم تنظیموں سے وابستہ افراد میں شدید ناراضگی
فائل فوٹو

احمد آباد : سال رواں حج کے سفر پر جانے والے عازمین کو دوہری مار جھیلنی پڑ رہی ہے ۔ جہاں ایک طرف سبسڈی ختم کر دی گئی ہے ، وہیں دوسری طرف سعودی حکومت  نے مختلف طرح کے ٹیکس نافذ کر کے عازمین کے سفر حج کو مزید مہنگا بنا دیا ہے ۔ سعودی حکومت کے نئے فرمان کے بعد اب رقم جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے گجرات یونٹ صدر شکیل احمد راجپوت نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سبسڈی ختم ہونے کے بعد مسلمان   سوچ رہے تھے کہ حکومت حج کے ٹکٹ کیلئے کوئی ٹینڈر نکالے گی ، تاکہ ٹکٹ کی قیمت کم ہوسکے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے بعد اب سعودی حکومت اس طرح کا فرمان جاری کر رہی ہے ۔ انہوں نے سعودی حکومت پر نشانہ سادھتے بولتے ہوئے کہا کہ حج ایک عبادت ہے ، اسے تجارت نہ بنایا جائے ۔

وہیں آل انڈیا ملی کونسل کے گجرات یونٹ صدر مفتی رضوان تاراپوری نے کہا کہ اگر سعودی  حکومت کو کسی مجبوری میں عازمین حج  سے ٹیکس کے نام پر زیادہ پیسہ لینا ہی تھا، تو اس کا جلدفیصلہ کرنا چاہئے تھا ، اب لوگ اپنے سفر کی تیاری کر رہے ہیں اور ان سے کہا جا رہا ہے مزید پیسہ جمع کرو۔

ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کا جو بھی فیصلہ ہے ، آج بھی گجرات کے گاؤں میں رہنے والے لوگ نہیں جانتے ہیں ۔ ایسے میں وہ کس طرح پیسہ جمع کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیسہ جمع کرانے کی جو تاریخ دی گئی ہے، اس میں توسیع کی جائے تاکہ لوگ آسانی سے پیسہ جمع کر سکیں۔

First published: Jun 28, 2018 09:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading