ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

کیا آپ جانتے ہیں گاندھی جی نے اردو میں بھی نکالا تھا اخبار؟

اخبار ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہر انسان کی آواز کو لوگوں تک پہنچا تا ہے۔ بھلے ہی الیکٹرونک میڈیا کا آج بول بالا ہو ، لیکن اخبارات کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے

  • Pradesh18
  • Last Updated: Oct 05, 2016 10:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کیا آپ جانتے ہیں گاندھی جی نے اردو میں بھی نکالا تھا اخبار؟
اخبار ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہر انسان کی آواز کو لوگوں تک پہنچا تا ہے۔ بھلے ہی الیکٹرونک میڈیا کا آج بول بالا ہو ، لیکن اخبارات کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے

احمد آباد (روشن آرا) اخبار ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہر انسان کی آواز کو لوگوں تک پہنچا تا ہے۔ بھلے ہی الیکٹرونک میڈیا کا آج بول بالا ہو ، لیکن اخبارات کی مقبولیت کم نہیں ہوئی ہے۔ گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی جی کے ایک اہم کام کا انکشاف ہوا ہے، جس سے لوگ آج تک نا واقف ہیں ۔آپ کو حیرانی ہوگی کہ گاندھی کا اتنا بڑا کام اب تک ہماری آنکھوں کے سامنے کیوں نہ آسکا۔

گاندھی جی کی اردو سے لگاو کا کسی کو علم نہیں ہے۔ گاندھی جی نے مختلف زبانوں میں اخبارات سے نکالے تھے ، لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ گاندھی جی نے اردو میں بھی ہریجن سیوک نامی ایک اخبار شائع کیا تھا۔ گاندھی جی کو اردو سے ہمیشہ لگاو رہا اور گاندھی جی ہندوستانی زبان کے ہمیشہ ہی حمایتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گجراتی اور انگریزی میں اخبارات جاری کئے ۔ وہیں ہندوستانی زبان یعنی اردو اور ہندی آمیز زبان میں ہریجن سیوک نامی ہفت روزہ اخبار بھی نکالا تھا۔

اس اخبار کو نکالنے کا سبب بتاتے ہوئے نو جیون پریس کے ٹرسٹی کپل راول نے بتایا کہ گاندھی جی جنوبی افریقہ سے جب لوٹے ، تب انہوں نے ہندوستان کی حالت دیکھا کہ یہاں کے لوگوں میں اخبار و دیگر ذرائع کے تعلق سے معلومات ہی نہیں ہے ۔ اس وقت گاندھی جی نے لوگوں کو انگریزوں کے چنگل میں سے باہر نکالنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے کے لے اخبار نکالنا شروع کردیا ۔


vlcsnap-5212-02-17-23h09m50s209

ہریجن سیوک کا پہلا شمارہ پانچ مئی 1946 بروز اتوار احمدآباد کے کالوپور میں موجود نو جیون پریس سے جاری ہوا، جس کی قیمت اس زمانے میں دو آنہ تھی۔ اس کے بعد گاندھیائی ادب پر بہت کا م کیا گیا اور اب بھی کام جاری ہے ، لیکن ہریجن سیوک کو نظر انداز کردیا گیا ۔ تاہم آج سے دس سال قبل گجرات میں اردو ادب کی پیش رفت میں شائع غلام محمد انصاری کا مضمون گجرات میں اردو صحافت 1947 کے بعد ایک جائزہ مضمون ہی ہماری تحقیق میں دکھائی دیتا ہے ۔ اس تعلق سےغلام محمد انصاری نے بتایا کہ گاندھی جی پر بطور اردو صحافی اب تک کوئی کام نہیں کیا گیا اور اردو اخبار ہریجن سیوک کو اب تک نظر اندار ہی کیا جارہا ہے۔ صحافت پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں ، لیکن اس پر اب تک کسی نے بھی کوئی کام نہیں کیا ہے ۔
First published: Oct 05, 2016 10:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading