ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لائسنس کے بغیر نابالغ نے چلائی گاڑی ، ہائی کورٹ نے والد پرلگایا 50 ہزار کا جرمانہ

ممبئی ہائی کورٹ نے لائسنس نہ ہونے کے باوجود کار چلانے والے نابالغ لڑکے کے والد پر 50000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ نابالغ لڑکا 14 نومبر 2015 کو اپنے گھر کی گاڑی چلا رہا تھا ، جو حادثہ کا شکار ہوگئی تھی۔

  • Agencies
  • Last Updated: Aug 20, 2016 11:58 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لائسنس کے بغیر نابالغ نے چلائی گاڑی ، ہائی کورٹ نے والد پرلگایا 50 ہزار کا جرمانہ
ممبئی ہائی کورٹ نے لائسنس نہ ہونے کے باوجود کار چلانے والے نابالغ لڑکے کے والد پر 50000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ نابالغ لڑکا 14 نومبر 2015 کو اپنے گھر کی گاڑی چلا رہا تھا ، جو حادثہ کا شکار ہوگئی تھی۔

ممبئی : ممبئی ہائی کورٹ نے لائسنس نہ ہونے کے باوجود کار چلانے والے نابالغ لڑکے کے والد پر 50000 روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ نابالغ لڑکا 14 نومبر 2015 کو اپنے گھر کی گاڑی چلا رہا تھا ، جو حادثہ کا شکار ہوگئی تھی۔ حادثہ کے دوران پیچھے کی سیٹ پر بیٹھا اس کا نابالغ دوست زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔حادثہ کے بعد کار چلانے والے لڑکا کے خلاف لاپروائی سے گاڑی چلانے کے سلسلے میں ورسووا پولیس تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں دونوں بچوں کے والدین کے درمیان صلح ہو گئی اور انہوں نے ہائی کورٹ میں مشترکہ عرضی دائر کر کے ایف آئی آر خارج کرنے کی اپیل کی۔ ہائی کورٹ میں جسٹس نریش پاٹل کی صدارت والی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ 'عام حالات میں ہم دونوں فریقوں پر کوئی جرمانہ عائد کئے بغیر یا معمولی جرمانہ دینے پر ایف آئی آر ختم کرنے کی اجازت دے دیتے ، لیکن اس معاملہ سے متعلق حقائق پریشان کن ہیں۔

بینچ نے کہا کہ 'گاڑی کے مالک یعنی درخواست گزار کے والد نے اپنے بیٹے کو چوپهيہ گاڑی چلانے کی اجازت دی ، جس کی وجہ سے مدعا علیہ کا نابالغ بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔ ہم سرکاری وکیل کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس کیس کے ذریعے معاشرے کو ایک پیغام دینے کی ضرورت ہے ۔ اس صورت حال میں کسی دیگر مسافر یا تیسرے شخص کو بھی شدید نقصان ہو سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

بنچ نے اس شرط پر ایف آئی آر خارج کر دی کہ درخواست گزار کا باپ 50000 روپے کا جرمانہ بھرے اور یہ رقم دو ہفتے میں ٹاٹا میموریل اسپتال اور ممبئی کے کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں جمع کرائی جائے۔

First published: Aug 20, 2016 11:57 AM IST