ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی میں اسکول نے حجاب پہننے پر لگائی پابندی ، مسلم خاتون ٹیچر نے دیا استعفی

پچیس سالہ خان شبينہ نازنین کرلا میں واقع وویک انگلش اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ نازنین کے مطابق ان کے لئے اسکول میں کام کرنا مشکل ہو رہا تھا، یہ سب کچھ اسکول کے غلط تصورات کے سبب ہو رہا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 10, 2016 03:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ممبئی میں اسکول نے حجاب پہننے پر لگائی پابندی ، مسلم خاتون  ٹیچر نے دیا استعفی
علامتی تصویر: گیٹی امیجیز

ممبئی : ممبئی میں ایک اسکول کے ذریعہ ایک ٹیچر کو اسکول کے احاطے میں برقع پہن کر آنے سے منع کئے جانے کا واقعہ سامنے آیا ۔ اس واقعہ سے جہاں علاقائی لوگوں میں شدید ناراضگی ہے ، وہیں اسکول کی ٹیچر نے استعفی دیدیا۔ 25 سالہ خان شبينہ نازنین کرلا میں واقع وویک انگلش اسکول میں پڑھاتی تھیں۔

نازنین کے مطابق ان کے لئے اسکول میں کام کرنا مشکل ہو رہا تھا، یہ سب کچھ اسکول کے غلط تصورات کے سبب ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے ایک آئی سی ٹی ٹیچر کے طور پر اس میں اسکول پڑھا رہی تھیں، لیکن جب جون میں نئی اسکول ہیڈ ماسٹر نے عہدہ سنبھالا ہے ، تب سے ان کو حجاب پہننے کو لے کر پریشان کیا جا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ہیڈ ماسٹرکے آنے کے بعد مجھ سے مسلسل حجاب اور برقعہ اتارنے کیلئے کہا گیا۔

سیاست ہند ڈاٹ کام کی خبر کے مطابق نازنین کا کہنا ہے کہ جب میں نے کہا کہ یہ میرا روایتی لباس ہے اور اسے پہننے کا میرا آئینی حق ہے۔ نازنین نے بتایا کہ انہوں نے 5 دسمبر کو استعفی دے دیا، جب قومی ترانہ سے پہلے انہیں اپنا برقعہ اتارنے کیلئے کہا گیا۔ اس دن مارننگ اسمبلی میں باری ان کی تھی۔

نازنین نے کہا کہ مجھے میرا برقعہ ہٹانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ جب میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ، تو ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ میں برقع پہن کر قومی ترانہ نہیں گا سکتی۔ وہیں اسکول کے پرنسپل وکرم پلئی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے یہاں اس طرح کا کوئی امتیاز ی سکول اختیار نہیں کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئی ہیڈ ماسٹر کے آنے کے بعد کچھ نئے قوانین کو نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال نازنین کا استعفی انتظامیہ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول میں متعدد مسلم طلبہ پڑھتے ہیں ، مگر آج تک کسی کو بھی حجاب پہننے سے نہیں روکا گیا۔

ادھر نازنین نے ایک غیر سرکاری تنظیم 'جے ہو فاؤنڈیشن کے ذریعہ وزیر تعلیم ونود تاوڑے کو خط لكھاكر رابطہ کیا ہے۔ جے ہو فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی عادل کھتری کے مطابق یہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ایک شخص کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشرہ کے لئے اچھا نہیں ہے، ہم وزیر سے اس شكايت کریں گے۔

First published: Dec 10, 2016 03:46 PM IST