உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آخر کب تک چلتی رہے گی فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا میں طلبہ کی جد وجہد

    اورنگ آباد : فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا شمار ملک کے اعلی ثقافتی تعلیمی ادارے میں ہوتا ہے ۔ سماج کی تعمیر وتشکیل اور ذہن سازی میں اس ادارے کا کلیدی رول رہا ہے۔ لیکن کئی مثبت تحریکوں اور نئی فکر وآہنگ کا مرکز رہ چکا یہ ادارہ ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔جب سے مرکزی حکومت نے ٹی وی اداکار گجیندر چوہان کا اس نامور ادارے کے چیئرمین کے طور پر تقرر کیا تو ایف ٹی آئی آئی میں جیسے بھونچال آگیا ہے ۔

    اورنگ آباد : فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا شمار ملک کے اعلی ثقافتی تعلیمی ادارے میں ہوتا ہے ۔ سماج کی تعمیر وتشکیل اور ذہن سازی میں اس ادارے کا کلیدی رول رہا ہے۔ لیکن کئی مثبت تحریکوں اور نئی فکر وآہنگ کا مرکز رہ چکا یہ ادارہ ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔جب سے مرکزی حکومت نے ٹی وی اداکار گجیندر چوہان کا اس نامور ادارے کے چیئرمین کے طور پر تقرر کیا تو ایف ٹی آئی آئی میں جیسے بھونچال آگیا ہے ۔

    اورنگ آباد : فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا شمار ملک کے اعلی ثقافتی تعلیمی ادارے میں ہوتا ہے ۔ سماج کی تعمیر وتشکیل اور ذہن سازی میں اس ادارے کا کلیدی رول رہا ہے۔ لیکن کئی مثبت تحریکوں اور نئی فکر وآہنگ کا مرکز رہ چکا یہ ادارہ ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔جب سے مرکزی حکومت نے ٹی وی اداکار گجیندر چوہان کا اس نامور ادارے کے چیئرمین کے طور پر تقرر کیا تو ایف ٹی آئی آئی میں جیسے بھونچال آگیا ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      اورنگ آباد : فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا شمار ملک کے اعلی ثقافتی تعلیمی ادارے میں ہوتا ہے ۔ سماج کی تعمیر وتشکیل اور ذہن سازی میں اس ادارے کا کلیدی رول رہا ہے۔ لیکن کئی مثبت تحریکوں اور نئی فکر وآہنگ کا مرکز رہ چکا یہ ادارہ ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔جب سے مرکزی حکومت نے ٹی وی اداکار گجیندر چوہان کا اس نامور ادارے کے چیئرمین کے طور پر تقرر کیا تو ایف ٹی آئی آئی میں جیسے بھونچال آگیا ہے ۔


      ایف ٹی آئی کے طلبہ پہلے دن سے گجیندر چوہان کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض ایک سیریل مہابھارت میں یودھیشٹر کا رول ادا کرنے والے سیکنڈ گریڈ اداکار کو ان کے چیئرمین کے طور پر تھوپا جارہا ہے ، جیسے وہ قطعی برداشت نہیں کریں گے ۔


      چوہان کو ایف ٹی آئی آئی میں داخلے سے باز رکھنے کے لیے طلبہ نے ہڑتال کا راستہ اپنایا ۔ یہ ہڑتال 139 دنوں تک جاری رہی۔ ہڑتال کو سو دن ہونے کے باوجود حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا ، تو کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے پونہ دورے کے دوران ان طلبہ کی حمایت کا اعلان کیا ، لیکن سیاسی حمایت، فنکاروں کا سپوٹ اور دانشوروں کی تائید کے باوجود حکومت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی ۔حکومت نےکچھ مثبت اشارے دیئے اور 29 ستمبر کو ایف ٹی آئی آئی طلبہ کی ہڑتال ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ممبئی کے فلم ڈویژن میں پارلیمانی سکریٹری سنیل ارورہ کی موجودگی میں احتجاجی طلبہ کے ساتھ میٹنگ ہوئی ، لیکن یہ میٹنگ بھی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی ۔


      طلبا نے ہڑتال تو ختم کردی ، لیکن گجیندر چوہان کے بائیکاٹ کا سلسلہ بدستور جاری رہا ۔ اس دوران دانشور طبقہ نے آگے بڑھ کر حکومت کو ایوارڈ واپس کیے ۔ دانشور طبقہ کا ماننا ہے کہ گجیندر چوہان اس عہدے کے معیار پر کھرے نہیں اترتے ہیں۔ ان کی اہلیت اور قابلیت کا بھی حکومت کو لحاظ رکھنا چاہئے ۔


      تاہم طلبہ کی مخالفت اور بائیکاٹ کے دوران ایک طویل انتظار کے بعد تقریباً 194 دنوں کے بعد گجیندر چوہان نے پولیس بندوبست کے درمیان 6 جنوری کو ایف ٹی آئی آئی کے چیئرمین کے عہدہ کا چارج سنبھال لیا ۔ اس موقع پر ایف ٹی آئی آئی کو پولیس چھاونی میں تبدیل کردیاگیا تھا ۔ نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیاگیا تھا ۔


      حفظ ما تقدم کے طور پر دیڑھ درجن طلبہ کو نوٹس بھی بھیجا گیا تھا۔ ان سب کے باوجود سینکڑوں طلبہ نے چوہان کی زبردست مخالفت کی اور اپنا احتجاج درج کروایا ۔ احتجاجیوں کو روکنے کے لیے پولیس کو طاقت کا سہارا بھی لینا پڑا اور 40 طلبا کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ۔ تاہم پورے پروگرام پر احتجاج کا سایہ ضرور نظر آیا ۔ خود گجیندر چوہان نے بھی طلبہ سے بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔


      ایف ٹی آئی آئی واحد ادارہ نہیں ہے ، جہاں بی جے پی حکومت اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کررہی ہے ، ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں حکومت کے خلاف ایک طرح کی برہمی دیکھی جارہی ہے اور ایوارڈ واپسی اسی برہمی کی ایک کڑی ہے۔


      اس پورے معاملے میں بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کو طلبہ کے احتجاج سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ عمومی پیغام تو یہی جارہا ہے ، لیکن بحیثیت چیئرمین گجیندر چوہان نے عہدہ کا چارج تو سنبھال لیا ہے ، لیکن ان کے اختیارات میں کٹوتی کردی گئی ہے ۔ مرکزی وزارت اطلاعات ونشریات کی جاری کردہ ہدایت کے مطابق چوہان کوئی بھی فیصلہ اپنے طور پر لینے کے مجاز نہیں ہیں ۔ انھیں ڈپٹی چیئرمین اور فلم ساز پر جیش پال سنگھ کے مشورے کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

      First published: