உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیوریج پلانٹ کے کھلے چیمبر کے پاس کھیل رہا تھا 5سالہ بچہ، اچانک ہوا کچھ ایسا سبھی کے اڑ گئے ہوش۔۔

    اس واقعے کے بعد عباس کے والدین نے خوف سے پولیس رپورٹ درج نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے کا پوسٹ مارٹم ہو۔

    اس واقعے کے بعد عباس کے والدین نے خوف سے پولیس رپورٹ درج نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے کا پوسٹ مارٹم ہو۔

    اس واقعے کے بعد عباس کے والدین نے خوف سے پولیس رپورٹ درج نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے کا پوسٹ مارٹم ہو۔

    • Share this:
    ممبئ سے منسلک کاشی میرا ہاٹ کیش کےگورو سمریدھی سوسائٹی کے احاطے میں سیوریج پلانٹ کے کھلے چیمبر میں گرنے سے پانچ سالہ بچے کی موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد بچے کی لاش کو چیمبر سے نکالنے والے الیکٹریشن سے ملی اطلاع کے مطابق شاہ عباس واقعے کے دن سوسائٹی احاطے میں کھیل رہا تھا کہ اس دوران اس کی گیند سیوریج پلانٹ کے کھلے چیمبر میں گر گئی۔ گیند نکالنے کی کوشش میں عباس چیمبر میں گر کر مر گیا۔

    اس واقعے کے بعد عباس کے والدین نے خوف سے پولیس رپورٹ درج نہیں کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے کا پوسٹ مارٹم ہو۔ فی الحال اس معاملے میں کاشی میرا پولیس نے اے ڈی آر کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ گورو سمردھی سوسائٹی کے احاطے میں موجود سیوریج پلانٹ کے کھلے چیمبر میں تیر نے والی وہی بول ہے جس کو نکالنے کے چکر میں 24 اگست کی شام پانچ سالہ شاہ عباس کو اپنی جان گنوانی پڑی۔

    اگر سوسائٹی میں رہنے والے مکینوں پر یقین کیا جائے تو یہ اس پورے معاملے میں بلڈر کی غلطی ہے جو سوسائٹی کے لوگوں کی طرف سے لاکھ شکایات کرنے کے بعد بھی سوسائٹی میں بد انتظامی پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔ گورو سمردھی سوسائٹی کے ارکان سے موصول ہونے والی معلومات کے بعد شاہ عباس کی موت کے بعد 25 اگست کو جب سوسائٹی کے مکین بلڈر سے ملنے اس کے کاندیولی آفس میں گئے تو بلڈر کے ساتھ جھگڑے کے بعد روی بلڈر نے سوسائٹی کے کچھ افراد کے خلاف کاندیولی پولیس میں شکایت درج کرائی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: