உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سندر رمن آئی پی ایل کے اپنے عہدہ سے مستعفی، بورڈ نے استعفیٰ منظور کیا

    ممبئی۔  انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر رمن نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے جسے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔

    ممبئی۔ انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر رمن نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے جسے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔

    ممبئی۔ انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر رمن نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے جسے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔  انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر رمن نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے جسے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔  ٹوینٹی 20 ٹورنامنٹ کے چھٹے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ اور سٹہ بازی کے سبب تنازعہ میں آنے کے بعد سے رمن کے رول پر بھی سوال کھڑے ہو رہےتھے۔


      آئی پی ایل کے سی ای او رمن ٹورنامنٹ کی شروعات سے ہی اس سے وابستہ رہے ہیں اور انہیں لیگ کے معطل شدہ صدر للت مودی کا انتہائی قریبی سمجھا جاتا تھا۔ حالانکہ مودی کو 2010 میں عہدہ سے ہٹائے جانےکے بعد سے رمن کے ہندستانی کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے سابق سربراہ این سری نواسن کے ساتھ بھی کافی قریبی روابط رہے تھے۔


      رمن کو ہندوستانی کرکٹ بورڈ میں کافی طاقتور سمجھا جاتا تھا لیکن جولائی میں بی سی سی آئی کے سیکرٹری انوراگ ٹھاکر نے اشارہ دیا تھا کہ رمن کا رول بورڈ میں پالیسی ساز کا نہیں بلکہ صرف ایک افسر کاہے اور وہ ان کے مستقبل پر فی الحال جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ جنوری میں سپریم کورٹ نے بھی رمن کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ رمن کے خلاف بھی آئی پی ایل میں بدعنوانی کے معاملے میں تحقیقات کی جانی چاہئے اور حقیقت سب کے سامنے آنی چاہیے۔


      غور طلب ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات سے وابستہ جج مکل مدگل کمیٹی کی رپورٹ میں جن 13 مشتبہ لوگوں کے نام بتائے گئے تھے اس میں مبینہ طور پر رمن کا نام بھی شامل تھا۔ اگرچہ ان لوگوں کے ناموں کا سپریم کورٹ نے انکشاف نہیں کیا تھا۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے جب مدگل کمیٹی کی رپورٹ کے کچھ حصوں کو عام کیا تھا تب اس میں کہا گیا تھا کہ رمن بھی سٹے بازوں کے رابطہ میں تھے اور تقریباً آٹھ بار آئی پی ایل سیشن کے دوران سٹے بازوں کے رابطہ میں آئے۔ لیکن انہوں نے میچ میں سٹہ لگانے کی بات سے انکار کیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ رمن کو آئی پی ایل ٹیموں چنئی سپر کنگ ٹیم پرنسپل گروناتھ ميپپن اور راجستھان رائلس کے شریک مالک راج کندرا کے سٹے بازی میں ملوث ہونے کی بات کا پتہ چلا تھا لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔


      دریں اثنا کیس کی تحقیقات سے وابستہ رہی جسٹس مدگل کمیٹی کے سربراہ جسٹس مکل مدگل نے رمن کے استعفی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میرے حساب سے تو رمن کو پہلے ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے استعفی دے کر درست قدم اٹھایا ہے‘۔ جگموہن ڈالمیا کے انتقال کے بعد منوہر کو دوبارہ بی سی سی آئی کا حال ہی میں صدر منتخب کیا گیا ہے اور انہوں نے بورڈ میں مفادات کے ٹکراؤ اور بدعنوانی کی وجہ سے بورڈ کی خراب شبیہہ کو بہتر بنانے کے لئے سخت قدم اٹھانے کا یقین دلایا تھا۔ رمن کے استعفی کو بھی اسی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

      First published: