உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الصفا اور آئی ایس سے جڑا ہے ریاض اور غوث، پاکستان سے لے چکا ہے ٹریننگ

    ریاض دہشت گرد تنظیم الصفا کا سرگرم دہشت گرد ہے۔ ریاض الصفا میں مجیب کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ٹونک کا رہنے والا مجیب اس وقت جیل میں ہے۔

    ریاض دہشت گرد تنظیم الصفا کا سرگرم دہشت گرد ہے۔ ریاض الصفا میں مجیب کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ٹونک کا رہنے والا مجیب اس وقت جیل میں ہے۔

    ریاض دہشت گرد تنظیم الصفا کا سرگرم دہشت گرد ہے۔ ریاض الصفا میں مجیب کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ٹونک کا رہنے والا مجیب اس وقت جیل میں ہے۔

    • Share this:
      ادے پور کے ٹیلر کنہیا لال کے قتل کے ملزم سے پوچھ گچھ میں کئی بڑے انکشافات ہوئے ہیں۔ ریاض انصاری جس نے اپنے ساتھی غوث محمد کے ساتھ اس واقعہ کو انجام دیا، دہشت گرد تنظیم آئی ایس سے رابطے میں تھا۔ ریاض دہشت گرد تنظیم الصفا کا سرگرم دہشت گرد ہے۔ ریاض الصفا میں مجیب کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ٹونک کا رہنے والا مجیب اس وقت جیل میں ہے۔ 30 مارچ کو رتلام سے جے پور دھماکہ خیز مواد لے کر جاتے ہوئے مجیب چتور گڑھ کے نمبہیرا میں پکڑا گیا۔ پھر جے پور میں دھماکوں کی سازش کی گئی۔

      ریاض انصاری کے ساتھ پکڑا جانے والا غوث محمد 2014 میں پاکستان گیا تھا۔ وہاں اس نے دہشت گرد تنظیم دعوت اسلام سے 45 دن کی تربیت لی۔ غوث محمد کے ساتھ بھارت سے 30 اور لوگ بھی گئے۔ اس نے وہاں 45 دن کی ٹریننگ بھی لی۔ دعوتِ اسلام کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ غوث محمد پاکستان میں تحریک لبیک سے مسلسل رابطے میں تھے۔

      ریاض اور غوث نے تین واٹس ایپ گروپ بنائے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام لبیک رسول اللہ تھا۔ اس گروپ میں وہ نوجوانوں کو تنظیم سے جوڑنے کے لیے ان کا برین واش کرنے کا کام کر رہا تھا۔ ریاض ادے پور میں ویلڈنگ کا کام کرتا تھا جبکہ غوث محمد پراپرٹی میں کام کرتا تھا۔ غوث محمد بھی ایک مسجد میں خدمت کا کام کرتے تھے۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ ان دونوں نے ایک بڑا سلیپر سیل الصفا بنایا تھا۔

      تفتیشی ایجنسیاں اب پوچھ گچھ سے یہ معلوم کر رہی ہیں کہ اس دہشت گردانہ واقعہ کے پیچھے تحریک لبیک کے ساتھ آئی ایس کا ہاتھ ہے۔ اس بات کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے کہ کیا کنہیا لال کا قتل ملک میں فسادات بھڑکانے کی کسی بڑی سازش کا حصہ تھا۔ فی الحال سیکورٹی ایجنسیاں اس پورے معاملے کا قومی اور بین الاقوامی کنکشن جاننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: