உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھان سے متصل پاکستانی سرحد پرپھرکھلیں گی چوکیاں، وزارت داخلہ نے دی منظوری

    راجستھان سے متصل بین الاقوامی سرحد پر اب سیکورٹی کے انتظامات مزید پختہ ہوں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بند پڑی خفیہ چوکیوں کو واپس شروع کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنی رضامندی دے دی ہے۔

    راجستھان سے متصل بین الاقوامی سرحد پر اب سیکورٹی کے انتظامات مزید پختہ ہوں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بند پڑی خفیہ چوکیوں کو واپس شروع کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنی رضامندی دے دی ہے۔

    راجستھان سے متصل بین الاقوامی سرحد پر اب سیکورٹی کے انتظامات مزید پختہ ہوں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بند پڑی خفیہ چوکیوں کو واپس شروع کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنی رضامندی دے دی ہے۔

    • Share this:
      راجستھان سے متصل بین الاقوامی سرحد پر اب سیکورٹی کے انتظامات مزید پختہ ہوں گے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بند پڑی خفیہ چوکیوں کو واپس شروع کرنے کے لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنی رضامندی دے دی ہے۔

      اس متعلق وزارت داخلہ کا خط ریاستی حکومت کے پاس پہنچ چکا ہے۔ حالانکہ وزارت نے رضا مندی دے دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی پانچ سوال بھی ریاستی حکومت سے پوچھے گئے ہیں۔ ان کے جواب کے بعد ہی بند پڑی چوکیاں واپس شروع کی جائیں گی۔

      اس متعلق ماضی میں  ریاست کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو خط لکھا تھا۔ راجستھان سے پاکستان کی 3323 کلو میٹر سرحد ہے۔ سرحد پر ناقابل یقین سرگرمیوں کی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے سابقہ میں بارڈرانٹلی جینس کی چوکیاں قائم کی گئی تھی۔ بارڈرعلاقے کے چار اضلاع جیسلمیر، شریگنگانگر، باڑمیر اور بیکا نیر اضلاع میں تقریباً 40 چوکیاں قائم کی گئی تھی۔ بعد میں سال 1995 اور 2009 میں ان میں سے 17 چوکیاں بند کردی گئی تھی۔

      اب وقت کی ضرورت دیکھتے ہوئے پولیس دفترنے ایک مارچ 2017 کو بند چوکیوں کو دوبارہ شروع کرنے اور 7 نئی چوکیوں سمیت 24 چوکیاں قائم کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کے پاس بھیجا تھا۔ اس پر اب اتفاق رائے  بن گئی ہے۔

      سابقہ میں قائم کی گئی چوکیوں کے دفتر پولیس کے پاس محفوظ ہے، لیکن چوکیوں کے لئے 144 عہدوں کی مانگ کی جارہی ہے اور ان چوکیوں کو شروع کرنے کا سالانہ ساڑھے چار کروڑ خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ وزارت داخلہ نے حکومت کو بھیجے اتفاق رائے والے خط میں جن پانچ نکات پر جواب مانگا ہے، ان میں ان چوکیوں کے اخراجات اور اس کی ضرورت سے متعلق جواب بھی مانگے گئے ہیں۔
      First published: