ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

جے این یو طلبہ لیڈر کنہیا کمار کو مہاراشٹر اسمبلی میں نہیں ہونے دیا گیا داخل

نہیا کمار کو دو پہر بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان جاری اجلاس کے وزیٹر گیلری میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اجازت حاصل کرنے کے باجود بھی صدر دروازے پر واقع سیکوریٹی گارڈ نے انہیں روک دیا جس کے سبب وہ اسمبلی میں داخل نہیں ہوسکے

  • UNI
  • Last Updated: Aug 02, 2016 07:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جے این یو طلبہ لیڈر کنہیا کمار کو مہاراشٹر اسمبلی میں نہیں ہونے دیا گیا داخل
نہیا کمار کو دو پہر بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان جاری اجلاس کے وزیٹر گیلری میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اجازت حاصل کرنے کے باجود بھی صدر دروازے پر واقع سیکوریٹی گارڈ نے انہیں روک دیا جس کے سبب وہ اسمبلی میں داخل نہیں ہوسکے

ممبئی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کو آج مہاراشٹر اسمبلی میں داخلے سے روک دیا گیا جبکہ ان کے پاس اسمبلی کے جاری مانسون اجلاس میں شرکت کا پاس موجود تھا ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کنہیا کمار کو دو پہر بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان جاری اجلاس کے وزیٹر گیلری میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اجازت حاصل کرنے کے باجود بھی صدر دروازے پر واقع سیکوریٹی گارڈ نے انہیں روک دیا جس کے سبب وہ اسمبلی میں داخل نہیں ہوسکے ۔

کنہیاکمار ساڑھے بارہ بجے اسمبلی کے صدر دروازے پر پہنچے جس کے بعد سیکوریٹی افسران نے ان سے شناختی کارڈ طلب کیا اور ان سے مختلف سوالات پوچھے جس کے دوران ایک بج گیا او ر ان کا وقت ختم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے انہیں اسمبلی میں جانے سے روک دیا گیا تھا ۔ اسمبلی میں داخل نہ ہونے کے بعد کنہیا کمار نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے اجازت دی گئی تھی اس کے باوجود بھی اجلاس میں شرکت کے لیئے اسے روک دیا گیا نیز وہ اسمبلی میں ودربھ کے تعلق سے منعقدہ بحث کو سننا چاہتے تھے ۔ کنہیا کمار نے کہا کہ انہیں داخلے سے روکنا جمہوریت کا گلا گھوٹنے کے متراد ف ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراشٹر کی ریاستی حکومت عوام دشمن ہے ۔

واضح رہے کہ آج علیحدہ ودربھ ریاست کو لیکر ریاستی اسمبلی کے دونوں ایوان میں جم کر نعرہ بازی ہوئی ، اپوزیشن کانگریس این سی پی شیوسینا کے ساتھ ملکر احتجا ج کیا جبکہ بی جے پی کے اراکین علیحدہ ودربھ ریاست کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اسی درمیان وزیر اعلی دیوندر فڑنویس نے متحد مہاراشٹر کا بیان دیا جس پر اپوزیشن لیڈر رادھا کشن وکھے پاٹل نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں اس پر بحث کی جائے ۔

وزیر اعلی نے بحث سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحد مہاراشٹر کے وزیر اعلی ہیں اور ریاستی حکومت کے روبرو ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے جس کی رو سے علیحدہ ودربھ ریاست تشکیل دی جائے۔ ریاستی قانون ساز کونسل میں شیوسینا لیڈر نیلم گورے نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی یہ بیان کونسل میں بھی دیں ۔

مجموعی طور پر آج دن بھر مہاراشٹر کو تقسیم کیئے جانے اور علیحدہ ودربھ ریاست تشکیل دیئے جانے کا معاملہ ہی چھایا رہا اور دونوں ایوان کی کارروائی اس کو لیکر کئی مرتبہ ملتوی بھی کی گئی۔

First published: Aug 02, 2016 07:32 PM IST