உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دودھ بیچنے والے ان پڑھ سے شادی کرنے کا کھاپ پنچایت کا فرمان ، پوسٹ گریجویٹ لڑکی نے عدالت میں کیا چیلنج

    جے پور: کسی کی بیٹی کی شادی کس سے ہو گی، اس کا فیصلہ کیا کوئی کھاپ پنچایت کر سکتی ہے؟ لیکن راجستھان کے متعدد میں پنچایت نے ایک لڑکی کی شادی کا فیصلہ اس کی اور اس کے کنبہ کی مرضی کےبغیر ہی کر دیا ہے۔

    جے پور: کسی کی بیٹی کی شادی کس سے ہو گی، اس کا فیصلہ کیا کوئی کھاپ پنچایت کر سکتی ہے؟ لیکن راجستھان کے متعدد میں پنچایت نے ایک لڑکی کی شادی کا فیصلہ اس کی اور اس کے کنبہ کی مرضی کےبغیر ہی کر دیا ہے۔

    جے پور: کسی کی بیٹی کی شادی کس سے ہو گی، اس کا فیصلہ کیا کوئی کھاپ پنچایت کر سکتی ہے؟ لیکن راجستھان کے متعدد میں پنچایت نے ایک لڑکی کی شادی کا فیصلہ اس کی اور اس کے کنبہ کی مرضی کےبغیر ہی کر دیا ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      جے پور: کسی کی بیٹی کی شادی کس سے ہو گی، اس کا فیصلہ کیا کوئی کھاپ پنچایت کر سکتی ہے؟ لیکن راجستھان کے متعدد میں پنچایت نے ایک لڑکی کی شادی کا فیصلہ اس کی اور اس کے کنبہ کی مرضی کےبغیر ہی کر دیا ہے۔ کھاپ نے ایک ٹیچر بیٹی کی شادی ان پڑھ دودھوالے سے طے کر دی ہے۔ کنبہ کو دھمکی بھی دی گئی کہ اگر فیصلہ تسلیم نہیں کیا گیا تو بائیکاٹ کر کے دس لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ لیکن پنچوں کی اس داداگري کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے لڑکی نے اس فرمان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
      راجستھان کے گڑئي گاؤں کی رہنے والی چندن کنور ایم کام کرنے کے بعد احمد آباد میں ایک اسکول میں ٹیچر ہے۔ چندن کے والد بنور سنگھ کھاپ پنچایت کے اس فرمان سے بے حد پریشان ہیں۔ کھاپ پنچایت نے چندن کی شادی گاؤں کے ہی ان پڑھ دودھ فروخت کرنے والے راوت سنگھ سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں پنچایت نے دھمکی دی کہ اگر بنور سنگھ نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا ، تو اس کا نہ صرف بائیکاٹ کیا جائے گا، بلکہ اس کو 10 لاکھ کا جرمانہ بھی دینا ہوگا۔
      چندن آبائی طور پر گڑئي گاؤں کی رہنے والی ہے، لیکن اس کا پورا کنبہ گجرات کے احمد آباد میں رہتا ہے۔ پنچایت نے اس کے لئے چندن کے والد بنور سنگھ کو باقاعدہ احمد آباد سے گاؤں بلایا اور پھر اس فیصلے کی اطلاع دی۔ چندن کو جب اس کی بھنک لگی ، تو وہ بھی اپنے گاؤں پہنچی اور کھاپ پنچوں کو صاف کہہ دیا کہ ان کی داداگري نہیں چلے گی ۔ وہ نہ ان کے کہنے سے ان پڑھ سے شادی کرے گی نہ ہی جرمانہ دے گی۔
      پہلے چندن جب پولیس میں شکایت کرنے گئی ، تو کسی نے بھی توجہ نہیں دی، لیکن اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور اب ضلع کلکٹر اور ایس پی کو تحریری شکایت دی ہے۔
      First published: