ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممتاز مجاہد آزادی مولانا برکت اللہ بھوپالی کو سالگرہ پر فراموش کردیا گیا

پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کی ولادت سات جولائی 1854 بھوپال میں ہوئی اور انتقال بیس ستمبر 1927 کو سن فرانسسکو امریکہ میں ہوا۔

  • Share this:
ممتاز مجاہد آزادی مولانا برکت اللہ بھوپالی کو سالگرہ پر فراموش کردیا گیا
ممتاز مجاہد آزادی مولانا برکت اللہ بھوپالی کو سالگرہ پر فراموش کردیا گیا

پروفیسر مولانا برکت اللہ بھوپالی کا شمار ہندستان کے ممتاز مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے ۔ برکت بھوپالی کی ولادت سات جولائی 1854 بھوپال میں ہوئی اور انتقال بیس ستمبر 1927 کو سن فرانسسکو امریکہ میں ہوا۔ مولانابرکت اللہ بھوپالی کے والد اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی کی تباہی کاری کے بعد اترپردیش کے بدایوں سے آکر ریاست بھوپال کے سیہور میں مقیم ہوئے تھے۔ آپ کی علمیت کا شہرہ جب بھوپال پہنچا تو نواب سکندر جہاں بیگم نے آپ کو بھوپال بلایا تھا۔ یہیں بھوپال میں سات جولالی اٹھارہ سو چوون کو عبد الحافظ محمد برکت اللہ کی ولادت ہوئی تھی۔


برکت اللہ بھوپالی کی ابتدائی تعلیم بھوپال میں ہوئی اس کے بعد انہوں نے اعلی تعلیم جبلپور اور ممبئی سے حاصل کی ۔ طالب علمی کے دوران ہی انہوں نے جب انگریزوں کے مظالم کو قریب سے دیکھا تو ملک کی آزادی کے لئے بھوپال کو خیر آباد کہا اور دنیا کے مختلف ممالک میں جاکر ہندستان کی آزادی کے لئے فضا ہموار کی ۔ برکت اللہ بھوپالی نے جرمن ، جاپان ، روس ، امریکہ ، فلسطین اورافعانستان سمیت مختلف ممالک کا دورہ کیا ۔ برکت اللہ بھوپالی نے ہندستان کی آزادی کے لئے غدت پارٹی پھر انڈیا ہوم رولس سو سائٹی قائم کی اور ملک کے نوجوانوں کو ملک کی آزٓدی کے لئے اس مشن کے ساتھ شامل ہونے کی دعوی دی ۔


مولانا برکت اللہ بھوپالی نے محتلف ممالک میں ہندوستان کی آزادی کے لئے فضا سازگار کرنے کے افغانستان پہنچے اور افغانستان میں حکومت برطانیہ کے خلاف ہندوستان کے لئے پہلی عبوری جلاوطن حکومت قائم کی ۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی نے ۱۹۱۵میں آزادی کے متوالوں کے ساتھ افغانستان میں پہلی عبوری جلا وطن حکومت قائم کی تھی ۔ اس عبوری جلا وطن حکومت کے راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ صدر بنائے گئے تھے اور مولانا برکت اللہ بھوپالی پہلے وزیر اعظم بنائےگئے ۔ لیکن آج اسی بھوپال میں مولانا برکت اللہ بھوپالی کو فراموش کردیا گیا ۔


حالانکہ مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام سے برکت اللہ یونیورسٹی قائم ہے ، لیکن یہاں بھی اس عظیم مجاہدآزادی اور پہلی عبوری حکومت کے وزیر اعظم کو مناسب طریقے سے یاد نہیں کیا گیا ۔ برکت اللہ یونیورسٹی کے رجسٹرار بی بی بھارتی کہتے ہیں کہ کورونا کا قہر پھیلا ہوا ہے ، اس لئے کسی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ ہم لوگوں نے انہیں ان کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان منور کوثر کہتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی یہ بڑی لا پروائی ہے ۔ جب کورونا قہر میں وبینار کئے جا سکتے ہیں ، تو اس عظیم مجاہد آزادی کی سالگرہ پر بھی وبینار کا انعقاد کیا جانا چاہئے تھا ۔ تاکہ نئی نسل کو معلوم ہوسکے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں مولانا برکت اللہ بھوپالی کا کردار کیا ہے ۔ یونیورسٹی نے صرف رسم ادائیگی کے طور پر گلہائےعقیدت پیش کیا ، جس میں بھی یونیورسٹی کے اعلی حکام شامل نہیں تھے۔

وہیں مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کو صرف یونیورسٹی کی سطح تک ہمیں محدود نہیں رکھنا چاہئے بلکہ حکومت مدھیہ پردیش کو ان کے نام پر ریسرچ چیئر قائم کرنا چاہئے ۔ تاکہ ان کے نام پر نئی تحقیق کی جاسکے اور نئی نسل اس سے واقف ہو سکے ۔ بھوپال میں برکت اللہ یونیورسٹی ضرور ہے ، لیکن نئی نسل ان کے کارناموں سے واقف نہیں ہے ۔ یہی نہیں مدھیہ ہردیش حکومت کو مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام سے نیشنل ایوارڈ قائم کرنا چاہئے ، جو ملک کی سالمیت و یکجہتی کے لئے کام کرنے والوں کو ہر سال دیا جائے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 07, 2020 07:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading