உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : ممتاز ناقد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو کیا گیا یاد

    مدھیہ پردیش : ممتاز ناقد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو کیا گیا یاد

    مدھیہ پردیش : ممتاز ناقد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو کیا گیا یاد

    سدبھاؤنا منچ اورایم پی جمعت علما کے ذریعہ برسی کے موقع پر قران خوانی کی گئی اور ان کی قبرکی صفائی کرتے ہوئے قبرکی تزین کاری اوراس کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : ممتاز ناقد و ماہر تعلیم ڈاکٹر عبد الرحمن  بجنوری کی ایک سو تین برسی کے موقع پر بھوپال میں یاد کیا گیا۔ سدبھاؤنا منچ اورایم پی جمعت علما کے ذریعہ برسی کے موقع پر قران خوانی کی گئی اور ان کی قبرکی صفائی کرتے ہوئے قبرکی تزین کاری اوراس کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا۔ نیوز ایٹین اردو کے ذریعہ چھبیس اکتوبر کو قبرعبد الرحمن بجنوری کی خستہ حالی پر خبر نشر ہونے کے بعد جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ کے اراکین کے ذریعہ یہ اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

    ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا شمار اردو کے ممتاز ادیب، ناقد، محقق، مفکر، ماہر تعلیم، ماہر قانون کے طور پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کی ولادت اتر پردیش کے تاریخی شہر بجنور میں دس جون  اٹھارہ سو پچاسی میں ہوئی تھی اور انہوں نے تینتس سال کی عمر میں سات نومبر انیس سو اٹھارہ کو بھوپال میں اپنی زندگی کا سفر تمام کیا اور انہیں بھوپال کے جلال پور قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری نے ابتدائی تعلیم اور میٹرک کا امتحان کوئٹہ بلوچستان سے پاس کیا۔ اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے محمڈن انگلو اورینٹل کالج میں داخل ہوئے ۔ یہاں سے انہوں نے انیس سو چھ میں بی اے اور انیس سو نو میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر بجنوری یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انگلستان گئے اور وہاں کے لنکران یونیورسٹی سے باریٹ لاکی ڈگری حاصل کی اور فری برگ یونیورسٹی جرمنی سے اسلامی تعزیرات پر جرمن زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر بجنوری نے تحصیل علم کے بعد کچھ عرصہ مرادآباد میں وکالت کی اوروکالت کرنے کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مجوزہ دستور کو بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

    بھوپال سے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کا گہرا رشتہ تھا۔ ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری عہد سلطان جہاں میں ریاست بھوپال کے مشیر تعلیم کے عہدے پر فائز تھے ۔انیس سو سترہ میں انہوں نے سلطانیہ کالج کے نام سے تعلیم منصوبہ بھی پیش کیاتھا۔ اسی عہد میں بابائے اردو مولوی عبد الحق نے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کو کلام غالب پر مبسوط مقالہ لکھنے کی ذمہ داری سپرد کی ۔ جو بعد میں محاسن کلام غٓالب کے نام سے مشہور ہوا۔ محاسن کلام غالب میں ان کے ذریعہ لکھے گئے مقدمہ کا یہ مقولہ (ہندستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ایک مقدس ویداور دوسرا دیوان غالب) بہت مشہور ہوا۔ اس کتاب نے غٓالب کی شعری جمالیات کی وساطت سے اردو کی تاثراتی تنقید کو ایک رنگ دیاتھا۔ یہ وہی عہد تھا جب بھوپال میں مرزا اسد اللہ خان غالب کے غیر مطبوعہ کلام کی انیس سو اٹھارہ میں نواب فوجدار محمد خان کے کتب خانہ سے دریافت ہوئی تھی۔بجنوری کا لکھا مقدمہ بعد میں نسخہ حمیدیہ کے نام سے جب غالب کا غیر مطبوعہ کلام شائع کیاگیا تواس میں شامل کیاگیاتھا۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے پریس سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد ڈاکٹر عبد الرحمن  بجنوری کی خدمت سے دنیا کو واقف کرانا ہے۔ اللہ نے انہیں کل تینتس سال کی عمر دی تھی مگر اس معمولی سی عمر میں انہوں نے اردو ادب میں اضافہ کا جو کارنامہ انجام دیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔جب نیوز ایٹین اردو نے چھبیس اکتوبر کو قبر کی خستہ حالی پر دکھائی تھی تو ہمیں امید تھی کہ اردو کی انجمنیں اپنا قدم آگے بڑھائیں گی مگر افسوس کسی بھی اردو انجمن نے جب قدم نہیں بڑھایا تو سد بھاؤنا منچ اور مدھیہ پردیش جمیعت علما نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے ۔ آج  ایصال ثواب کے لئے قران خوانی کرکے دعا کی گئی ساتھ ہی قبر کی خستہ حالی کو دور کرنے کے لئے سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے ۔ ان شا اللہ بہت جلد آپ قبر کوویسی ہی حالت میں دیکھیں گے جیسی نوابین بھوپال کے زمانے میں ہیہ تھی۔

    وہیں سدبھاؤنا منچ بھوپال کے صدر حافظ محمد اسمعیل کہتے ہیں کہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری جیسے قلم کار اردو کے حصہ میں آئے۔ لیکن یہ بھی بد قسمتی ہے کہ اہل اردو نے بھوپال میں انہیں فراموش کردیا ہے ۔ اگر ہم لوگ یہاں پر نہیں بھی آتے تو ہم سے کوئی سوال کرنے والا نہیں ہے لیکن اردو کی انجمنیں جو دن میں پچاس بار غالب اور محاسن کلام غالب کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کی بات کرتی ہیں ، انہیں اس قبر کی خستہ حالی کی خبر لینا چاہئے تھی۔ ہم یہاں پر ایک بورڈ بھی لگائیں گے تاکہ اس قبرستان میں آنے والوں کو معلوم ہو سکے کہ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کی خدمات کیا رہی ہیں ۔ اسی کے ساتھ شہر میں ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کی حیات و خدمات پر پمفلیٹ شائع کرکے تقسیم کئے جائیں گے تاکہ نئی نسل ان کے عظیم کارناموں سے واقف ہوسکے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: