ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مدھیہ پردیش : پنکچر بنانے والے ریاض احمد نے پیش کی انسانی خدمت کی عظیم مثال، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف

ریاض احمد نے اپنی پنکچرکی معمولی سی دکان سے جو سرمایہ جمع کیا تھا ، اسے نکالا اور اس سے آکسیجن سلینڈر خرید کر اسپتالوں میں مفت پہنچانے کا فیصلہ کیا ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : پنکچر بنانے والے ریاض احمد نے پیش کی انسانی خدمت کی عظیم مثال، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف
مدھیہ پردیش : پنکچر بنانے والے ریاض احمد نے پیش کی انسانی خدمت کی عظیم مثال، ہر طرف ہورہی جم کر تعریف

بھوپال : ملک میں کورونا کے قہر سے سبھی واقف ہیں ۔ کورونا قہر ملک  میں ایک ایسے عذاب کے طور پر نازل ہوا ہے کہ عام لوگوں کی بات تو کجا سرمایہ دار طبقہ بھی کار خیر کو کرنے سے گریز کرنے لگا ہے ۔ ایسے میں اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ سائیکل اور موٹر سائیکل کے پنکچر جوڑنے والے ایک معمعولی شخص نے کورونا قہر میں ستر سے زیادہ آکسیجن سلینڈراسپتالوں کو مفت دیکر انسانیت کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے تو آپ کو حیرت ہوگی ۔ شیوپور کے ریاض احمد ایسے ہی زندہ دل لوگوں میں سے ہیں ، جنہوں نے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔


مدھیہ پردیش کے شیوپور میں رہنے والے  ریاض احمد زندگی کی ساٹھ بہاریں پوری کرچکےہیں ۔ ریاض احمد اور ان کے گھر کا گزر بسر پنکچر جوڑنے کی معمولی دکان سے پورا ہوتا ہے ۔ کورونا قہرجب آیا اور حکومت کی پابندی عائد ہوئی تو دوسرے لوگوں کی طرح ریاض احمد کی پنکچرکی دکان بھی بند ہوگئی اور انہوں نے بھی شہر کے عام باشندوں کی طرح حکومت کے احکام پر عمل کرنے کے لئے گھر میں رہنا شروع کردیا ۔ تاکہ کورونا کی چین توڑی جا سکی اور اس وبائی بیماری کا خاتمہ ہوسکے ۔ اسی دوروان اسپتالوں میں کورونا قہر میں جب آکسیجن کی قلت کو لے کر ہاہاکار مچا ، تب مفاد پرستوں نے آکسیجن کے نام پر کالا بازاری شروع کردی  ، لیکن ریاض احمد کو آکسیجن کی قلت کی خبروں نے توڑکر رکھدیا ۔


ریاض احمد نے اپنی پنکچرکی معمولی سی دکان سے جو سرمایہ جمع کیا تھا ، اسے نکالا اور اس سے آکسیجن سلینڈر خرید کر اسپتالوں میں مفت پہنچانے کا فیصلہ کیا ۔ فیصلہ مشکل بھی تھا اور صبر آزما بھی ۔ وہ اس لئے کہ ریاض احمد کے پاس پنکچر کی دکان کےعلاوہ گزربسر کا کوئی اور سہارا بھی نہیں ہے ۔ ضرورت یہ کہتی تھی کہ چپ رہو اور جوہو رہا ہے ، اسے ہونے دو ، مگر حقیقت یہ کہتی تھی کہ اس مشکل وقت میں انسانیت کو بچانے کا اگر فریضہ انجام نہیں دیا ، تو خود کا ضمیر زندگی بھر معاف نہیں کرے گا۔ ریاض احمد نے اپنی گھریلو ضرورتوں کو اور محدود کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے محدود وسائل سے ایک دو نہیں بلکہ ستر آکسیجن سلینڈرخرید کرشیوپورضلع انتظامیہ کو مفت دئے ۔ تاکہ کورونا قہر میں سسکتی انسانیت کی جان بچائی جا سکے ۔


ریاض احمد کہتے ہیں کہ ماہ رمضان قران کے نزول کے جشن کا مہینہ ہے ۔ قران کی تعلیم تو یہی ہے کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے ۔ پھر یہ مہینہ رمضان تو غمگساری کا مہینہ ہے ۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ شہر کے لوگوں پر کوئی مشکل آئے اور ہم خاموش بیٹھے رہیں ۔ ہمارے پاس پنکچر جوڑنے کی دکان ہے ، اسی سے گھر کا گزر بسر چلتا ہے ۔ جب ہم نے سنا کہ شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے لوگوں کی موت ہورہی ہے تب ہم نے اپنی خواہشات کو اور محدود کرنے کا فیصلہ کیا ۔ تاکہ اسپتالوں میں آکسیجن سلینڈر فراہم کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو بھی جمع پونجی تھی اس سے ہم نے آکسیجن کے ستر سلینڈر خریدے اور اسے ضلع انتظامیہ کو دیدیا تاکہ ان کا اسپتالوں میں استعمال ہوسکے اور لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔ ایک پنکچر والے کی بساط ہی کیا ہے جو ہو سکتا تھا وہ کیا ہے اور آگے بھی انسانیت کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔

ریاض احمد نے سچ کہا ہے کہ ایک پنکچر والے کی بساط ہی کیا ہے ۔دنیا کے سرمایہ داروں کے سامنے پنکچر والے کی کوئی بساط نہیں ہوتی ہے مگر ریاض احمد نے اپنے پہاڑ جیسے جذبہ سے انسانیت کو بچانے کا جو غظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ بڑے سے بڑے سرمایہ دار بھی نہیں کر سکے۔ ریاض احمد نے انسانیت کو بچانے کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ، اسی کو ملک کو ضرورت ہے ۔

ریاض احمد نے اپنےعزم سے بتا دیا کہ کارخیر کرنے کیلئے وسائل کی نہیں بلکہ جذبے کی ضرورت ہوتی ہے اور  دل میں خدمت کا جذبہ ہو تو مشکلات راہ میں کبھی روکاوٹ نہیں بنتی ہیں بلکہ چھوٹے وسائل سے بھی بڑے کا م کرتے ہوئے  مشکلات کے پہاڑکوبھی سر کیا  جا سکتا ہے ۔ کورونا کے قہر میں ریاض احمد کے جذبے سے سبق لینے کی ضرورت ہے تاکہ سسکتی انسانیت کو بچایا جا سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 08, 2021 12:59 PM IST