ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

کورونا وائرس: راشن کی دکانوں سے دھاندھلی کے ایک اور نئے طریقے کا انکشاف

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے پورے ملک میں لمبے عرصے کے لئے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں کو شدید مشکلات پیش آرہی ہے ۔اچانک کاروبار بند ہونے آمدنی کے ذرائع بندہونے سے لوگ اپنی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کرپارہے ہیں ۔ایسے میں راشن دکانوں سے ملنے والے سستے اناج پر لوگوں کی زندگی منحصر ہوکر رہ گئی ہے۔

  • Share this:
کورونا وائرس: راشن کی دکانوں سے دھاندھلی کے ایک اور نئے طریقے کا انکشاف
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے پورے ملک میں لمبے عرصے کے لئے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں کو شدید مشکلات پیش آرہی ہے ۔اچانک کاروبار بند ہونے آمدنی کے ذرائع بندہونے سے لوگ اپنی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کرپارہے ہیں ۔ایسے میں راشن دکانوں سے ملنے والے سستے اناج پر لوگوں کی زندگی منحصر ہوکر رہ گئی ہے۔

ناندیڑ: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے پورے ملک میں لمبے عرصے کے لئے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے سبب لوگوں کو شدید مشکلات پیش آرہی ہے ۔اچانک کاروبار بند ہونے آمدنی کے ذرائع بندہونے سے لوگ اپنی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کرپارہے ہیں ۔ایسے میں راشن دکانوں سے ملنے والے سستے اناج پر لوگوں کی زندگی منحصر ہوکر رہ گئی ہے۔ وہیں دوسری طرف راشن دکان مالکان کی دھاندھلیاں بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔آج بھی راشن دکان مالکان الگ الگ بہانے بناکر لوگوں کو راشن دینے سے انکار کررہے ہیںناندڑ میں ایسے ہی کئی معاملے سامنے آرہے ہیں جس میں صاف طورپر نظر آرہا راشن دکان مالکان لوگوں کو اناد دینے سے انکار کررہے ہیں ۔

اس کی ایک مثال ناندیڑ شہر کے کھڑکپورہ کے واقعہ سے دی جاسکتی ہے جس میں اسی علاقہ ساکن شیخ خالد شیخ فقیر معمول کے مطابق اپنا اناج کھڑکپورہ میں واقع راشن دکان نمبر ۶۶ پر لینے پہنچے ۔مارچ مہینہ میں بھی انہوں نے اسی دکان سے راشن حاصل کیا تھا۔لیکن اپریل کے مہینہ کا اناج لینے کے لئے جب وہ دکان پر پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ ان کا اناج پہلے ہی کسی اور نے اٹھالیا گیا ۔دکان دار نے کہا کہ وہ اس مہینہ انہیں راشن نہیں دے سکتے کیونکہ ان کا اناج کسی اور دکان سے پہلے ہی اٹھالیا گیا ہے ۔


دکان مالک نے انہیں راشن دینے سے انکار کرنے پر شیخ خالد نے سماجی کارکن ذکی االدین صدیقی سے رابطہ قائم کیا ۔اسکے بعد یہ لوگ وہاں پہنچے او ر انہوں نے شیخ خالد کی راشن کارڈ کے آرسی نمبر کی تفصیلات آن لائن پتہ لگائی جس مین انہیں یہ پتہ چلا کہ ان کے کارڈ کا اناج راشن دکان نمبر ۷۱ لیبر کالونی سے پورٹے بلیٹی کے ذریعہ ۳ اپریل کو ٹرانزیکشن کرکے اٹھالیا گیا ۔ جب اس معاملے کے بارے دکان مالک اشوک پیراجی کامبڑے سے رجوع کرنے پرانہوں نے صاف انکارکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی دکان سے وہ ٹرانزیکشن نہیںکیا گیاہے جبکہ آن لائن میں اس کا ریکارڈ درج درج ہے ۔ایسی ہی ایک اور معاملہ پورنمیا نگر کی میں پیش آیا۔


پیر برہان کے رہنے والے شیخ محبوب کو بھی دکان مالک ایڑکے نے یہ کہہ کرراشن دینے سے انکار کیا کہ پہلے کسی اور دکان سے اٹھالیا گیاہے ۔جب اس کی بھی تفصیلات معلوم کی گئی تو پتہ چلا کہ پورٹے بلیٹی کی مدد سے ناگپور کے کسی دنان سے شیخ محبوب کے حصہ کا اناج اٹھالیا گیاہے ۔اس سلسلہ میں ہم نے آن لائن ویب سائیڈ پر درج معلومات حاصل کی تو پتہ کہ ناندیڑ ضلع کے تقریباً دس ہزار سے زائد گاہکوں کے اناج کو پورٹےبلیٹی کی مدد سے حاصل کیا ہے ان میں حقیقی لوگوں نے کم اور فرضی گاہکوں نے زیادہ اناج لینے کی بات سامنے آرہی ہے ۔اب اس معاملے میں کون حقیقت سے چھپارہاہے یہ جاننا ضروری ہے ۔
یہاں یہ سوال پیداہورہاہے کہ شیخ خالد کو اس کے حق اناج کون دیے گا ۔سماجی کارکن ذکی الدین صدیقی نے کہا کہ اس معاملے میں محکمہ سپلائی کے افسران کو دھیان دینا پڑے گااور معاملے کی سچائی کو باہرلاکر جو لوگ دھاندھلی کررہے ہیں ان کیخلاف کارروائی کرنی ہوگی ۔ورنہ اسی طرح سے لوگوں کو اناج سے محروم کیا جاتاہے رہے گا۔پورٹے بلیٹی کی سہولت کے ذریعہ حکومت نے گاہکوں کو ان سہولت کے مطابق قریبی دکان سے اناج لینے کاموقع دیا تھا لیکن یہاں اس سہولت کا غلط فائدہ اٹھاکر لوگوں کو پریشان کیا جارہاہے۔
First published: Apr 19, 2020 10:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading