ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مہاراشٹر میں سخت لاک ڈاون کی ضرورت نہیں ، کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاری شروع کی : ادھو

No need for a more strict lockdown in Maharashtra: ادھوے ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست میں سخت لاک ڈاون لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور ریاست کے لوگ کووڈ گائیڈ لائنس پر عمل کررہے ہیں ۔

  • Share this:
مہاراشٹر میں سخت لاک ڈاون کی ضرورت نہیں ، کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاری شروع کی : ادھو
مہاراشٹر میں سخٹ لاک ڈاون کی ضرورت نہیں ، کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاری شروع کی : ادھو

نئی دہلی : مہاراشٹر کورونا کی دوسری لہر سے پریشان ہے ۔ ریاستی سرکار نے انفیکشن پر قابو پانے کیلئے پوری طاقت جھونک دی ہے اور اس کا اثر نظر بھی آرہا ہے ۔ ممبئی میں انفیکشن کی شرح میں کافی کمی دیکھی گئی ہے ۔ اس درمیان جمعہ کو ریاست کے عوام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ریاستی سرکار نے کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے تیاری شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیسری لہر کا اثر مہاراشٹر پر نہیں پڑنے دیں گے ۔ ملک کا کوئی بھی آدمی کورونا کی دوسری لہر کیلئے تیار نہیں تھا ، لیکن لہر آگئی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میں ویکسین کی دستیابی کی بنیاد پر یکم مئی سے طے پروگرام کے مطابق ٹیکہ کاری پروگرام شروع ہوگا ۔


ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ میں نے صنعت کاروں سے بات کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے کیا تیاری کرنی ہوگی ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے پابندیوں اور لاک ڈاون کے ذریعہ کورونا کے قہر پر قابو پالیا ہے ۔ ہمارا اندازہ تھا کہ ریاست میں 10 لاکھ پازیٹیو کیسیز ہوسکتے ہیں ، لیکن ابھی یہ سات لاکھ کے قریب ہیں ۔ لاک ڈاون کے معاملہ پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست میں سخت لاک ڈاون لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور ریاست کے لوگ کورونا پروٹوکال پر عمل کررہے ہیں ۔


ریاست میں ریمیڈیسیور کی قلت پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے کہا کہ روزانہ کی ضرورت پچاس ہزار شیشیوں کی ہے ، لیکن مرکزی سرکار نے ہمیں شروعات میں 26700 شیشیاں دی تھیں ۔ بعد میں ہم نے وزیر اعظم سے مزید سپلائی کی مانگ کی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہمیں 43000 شیشیاں دستیاب کرائے جانے کا بندوبست ہے ، لیکن حقیقت میں ہمیں 35000 شیشیاں ہی مل رہی ہیں اور ہم اس کی ادائیگی کررہے ہیں ۔ وزیر اعلی نے لوگوں کو وارننگ دیتے کہا کہ غیر ضروری معاملوں میں ریمیڈیسیور کا استعمال نہ کریں اور ڈاکٹر کے مشورہ پر ہی کوئی فیصلہ لیں ۔


اس کے علاوہ آکسیجن کی کمی پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست کے پاس 1200 میٹرک ٹن آکسیجن کے پروڈکشن کی صلاحیت ہے ، لیکن ہم روزانہ 1700 میٹرک ٹن میڈیکل آکسیجن کا استعمال کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ وقت پر آکسیجن کا ٹرانسپورٹ ایک سے دوسری جگہ پر کرسکیں ، لیکن انفیکشن کے معاملات بڑھتے رہے تو پریشانی ہوسکتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 30, 2021 11:56 PM IST