உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاڈ عمارت حادثہ: 19گھنٹوں بعد ملبے میں دبا ساڑھے تین سال کا بچہ معجزاتی طور پر زندہ، مرنے والوں کی تعداد 3 ہوگئی

    مہاراشٹر میں خطرناک حادثہ

    مہاراشٹر میں خطرناک حادثہ

    معجزاتی طور پر بچ جانے والے اس بچے کی شناخت محمد بانگی کے طور پر کی گی ہے۔ بچاو ٹیم کی اس کامیابی پر انہیں مبارک باد دی جا رہی ہے۔ تاہم ، اس زمین بوس عمارت کے ملبے سے مزید دو لاشیں ملی ہیں، جس میں ایک 34 سالہ شخص نوید جھمانے شامل ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی۔ مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں ' طارق گارڈن ' نامی منہدم پانچ منزلہ عمارت کے ملبہ میں سے این ڈی آر ایف نے 19 گھنٹوں بعد ایک ساڑھے تین سالہ بچے کو زندہ نکال لیا ہے۔ معجزاتی طور پر بچ جانے والے اس بچے کی شناخت محمد بانگی کے طور پر کی گی ہے۔ بچاو ٹیم کی اس کامیابی پر انہیں مبارک باد دی جا رہی ہے۔ تاہم ، اس زمین بوس عمارت کے ملبے سے مزید دو لاشیں ملی ہیں، جس میں ایک 34 سالہ شخص نوید جھمانے شامل ہے۔ اس طرح عمارت کے حادثے میں اب تک 3 افراد کی موت ہوچکی ہے، جبکہ سات دیگر افراد مہاڈ کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ 19 افراد اب بھی عمارت کے ڈھیر کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔

      منہدم عمارت میں 41 فلیٹ تھے جن میں سے 18 فلیٹ خالی تھے۔ عمارت میں مقیم 97 افراد میں سے 78 افراد باہر آنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ 19 افراد لاپتہ ہیں۔ اسپتال میں زیر علاج 7 زخمیوں میں سے 5 کو علاج کے بعد گھروں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ضلع رائے گڑھ کے مہاڈ میں واقع پانچ منزلہ عمارت مکمل طور پر منہدم ہونے کی اطلاع ملتے ہی رات کو شہری ترقیاتی وزیر ایکناتھ شندے موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کاموں کے لئے ضلعی کلکٹر ، مقامی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کے ساتھ ربط قائم کرکے ملبہ کے نیچے پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت تعینات کرنے کا حکم دیا۔

      شندے کے حکم کے مطابق تھانہ میونسپل کارپوریشن کے ایمرجنسی ریلیف اسکواڈ (ٹی ڈی آر ایف) اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور انہوں نے امدادی کام بھی شروع کردیا۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ اس حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عمارت کو 2011 میں پنویل کے کوہ نور ڈیولپرس نے تعمیر کیا تھا۔ علاقے کے سابق کونسلر بپن مہامکر نے بتایا کہ جب تعمیراتی کام چل رہا تھا تبھی اس میں ناقص مٹیریل استعمال کرنے کی شکایت ملی تھی لیکن اس پر کسی نے توجہ نہیں دی تھی۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: