உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'دو بچوں کی موت سے ٹوٹ گیا تھا، لیکن'...، اسمبلی میں پہلی تقریر میں CM ایکناتھ شندے ہوئے جذباتی

    'دو بچوں کی موت سے ٹوٹ گیا تھا، لیکن'...، اسمبلی میں پہلی تقریر میں CM ایکناتھ شندے ہوئے جذباتی ۔ فائل فوٹو ۔

    'دو بچوں کی موت سے ٹوٹ گیا تھا، لیکن'...، اسمبلی میں پہلی تقریر میں CM ایکناتھ شندے ہوئے جذباتی ۔ فائل فوٹو ۔

    Eknath Shinde News: پیر کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد بطور وزیر اعلی مہاراشٹر اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے ایکناتھ شندے جذباتی ہوگئے ۔

    • Share this:
      ممبئی : پیر کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد بطور وزیر اعلی مہاراشٹر اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے ایکناتھ شندے جذباتی ہوگئے ۔ شندے نے شیوسینا کے ساتھ بغاوت کے بعد اپنے اہل خانہ پر خطرے کو لے کر بات کرتے ہوئے اپنے دو بچوں کا تذکرہ کیا ، جن کی موت ہوگئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں تھانے میں شیوسینا کونسلر کے طور پر کام کررہا تھا، تو میں نے اپنے دو بچوں کو کھودیا اور سوچا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے ۔ میں ٹوٹ گیا تھا، لیکن آنند دیگھے صاحب نے مجھے سیاست میں برقرار رہنے کیلئے منا لیا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: Maharashtra میں ادھر فلورٹیسٹ، ادھر ادھو پہنچے سپریم کورٹ، اسپیکر کے اس فیصلہ کو کیا چیلنج


      وزیر اعلی نے مزید کہا کہ انہوں نے میرے کنبہ پر حملہ کیا، میرے والد زندہ ہیں، میری ماں کی موت ہوگئی ۔ میں اپنے ماں باپ کو زیادہ وقت نہیں دے سکا ۔ جب میں آتا تو وہ سو جاتے اور جب میں سو جاتا تو وہ کام پر چلے جاتے ۔ میں اپنے بیٹے شری کانت کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا۔ میرے دو بچوں کی موت ہوگئی، اس وقت آنند دیگھے نے مجھے ہمت دی ، میں سوچتا تھا کہ جینے کیلئے کیا ہے؟ میں اپنے کبنہ کے ساتھ رہوں گا۔



       

      یہ بھی پڑھئے: Pak وزیر کا بیان، ڈرگ ایڈکٹ ہیں عمران خان، کوکین کے بغیر دو گھنٹے بھی نہیں رہ سکتے


      اعتماد کا ووٹ جیتنے کے بعد اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے کہا کہ میرے ساتھ کیا کیا ہوا، یہ سب جانتے ہیں ، قانون ساز کونسل سے ایک دن پہلے مجھے بالا صاحب اور آنند دیگھے کی وہ بات یاد آئی کہ اگر آدرش کو زندہ رکھنا ہے تو باغی بنو، میں نے لوگوں کو فون لگایا اور لوگ ساتھ آئے ۔۔۔ میں نکل گیا ۔۔۔ میرے لوگ میرے ساتھ آنے لگے ۔۔۔۔ پوچھا کہاں جانا ہے۔۔۔ میں نے کہا معلوم نہیں ۔۔۔۔ کب آئیں گے ؟ میں کہا معلوم نہیں ۔۔۔۔ وقت گزرا اور میرے لوگوں کا بھروسہ مجھ پر بڑھتا گیا۔۔۔ ایک دن میں یہ سب نہیں ہوا ۔۔۔ میرے سبھی چالیس لوگ میرے ساتھ رہے، تب جاکر یہ سرکار وجود میں آئی ۔۔۔۔

      انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بہت کچھ بولا گیا، لیکن سنیل پربھو جانتے ہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا ہوا ۔ مجھے کس طرح چھلنی چھلنی کیا گیا تم سب جانتے ہو ۔ ایک طرف مجھ سے بات چیت کیلئے کہتے ہوئے کچھ لوگوں کو بھیجتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو میرے گھر پتھر بازی کرنے کیلئے بھیجتے ہیں، اگر میرے گھر پر پتھر ماروگے تو میرے ہزاروں ہاتھ اٹھیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: