உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Maharashtra Assembly: مہاراشٹر میں وزیر اعلی شندے کل ثابت کریں گے اکثریت، اسپیکر کیلئے ہوئی ووٹنگ کے بعد کیا ہوسکتا ہے حساب کتاب

    Maharashtra Assembly: مہاراشٹر میں وزیر اعلی شندے کل ثابت کریں گے اکثریت، اسپیکر کیلئے ہوئی ووٹنگ کے بعد کیا ہوسکتا ہے حساب کتاب ۔ فائل فوٹو ۔

    Maharashtra Assembly: مہاراشٹر میں وزیر اعلی شندے کل ثابت کریں گے اکثریت، اسپیکر کیلئے ہوئی ووٹنگ کے بعد کیا ہوسکتا ہے حساب کتاب ۔ فائل فوٹو ۔

    Maharashtra Assembly: بی جے پی لیڈر راہل نارویکر کو مہاراشٹر اسمبلی کا اسپیکر منتخب کرلیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ شندے سرکار اپنے پہلے امتحان میں پاس ہوگئی ہے ۔ اسپیکر عہدہ کے الیکشن کو کل ہونے والے فلور ٹیسٹ سے پہلے سیمی فائنل مانا جارہا ہے ۔

    • Share this:
      ممبئی : بی جے پی لیڈر راہل نارویکر کو مہاراشٹر اسمبلی کا اسپیکر منتخب کرلیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ شندے سرکار اپنے پہلے امتحان میں پاس ہوگئی ہے ۔ اسپیکر عہدہ کے الیکشن کو کل ہونے والے فلور ٹیسٹ سے پہلے سیمی فائنل مانا جارہا ہے ۔ پیر کو ایوان میں وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو اکثریت ثابت کرنی ہے ۔ اسمبلی اسپیکر عہدہ کیلئے ہوئے الیکشن میں بی جے پی لیڈر راہل نارویکر کو 164 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کے امیدوار راجن سالوی کو 107 ووٹ ملے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اسدالدین اویسی نے AIMIM کو ووٹ دینے کی اپیل کی


      شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے گروپ نے شندے خیمے کے 16 ممبران اسمبلی کو معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے ۔ اس صورت میں اکثریت کا ہندسہ 137 پر آجائے گا ۔ 16 ووٹ کم ہونے پر ایکناتھ شندے ۔ دیویندر فڑنویس سرکار کے پاس اکثریت کے پاس 148 ووٹ ہوں گے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اودے پورقتل معاملے کےملزمین کو این آئی اے کورٹ نے10دنوں کی ریمانڈ پربھیجا


      حالانکہ سبھی 39 باغی ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا جاتا ہے تو بھی برسراقتدار اتحاد مطلوبہ تعداد سے آگے نکل جائے گی ، آج کی ووٹنگ سے پتہ چلتا ہے ۔ 39 ممبران اسمبلی کی معطلی سے اکثریت کی تعداد 125 ہوجائے گی ۔ راہل نارویکر کو 164 ووٹ ملے ، اس لئے 39 ووٹ کم ہونے پر بھی حکمراں اتحاد محفوظ رہے گا ۔

      اس سے واضح ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے گروپ کے پاس ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ تعداد نہیں ہے ۔ حالانکہ آج سماجوادی پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم کے ممبران نے ووٹ نہیں ڈالا ۔ بھلے ہی وہ صرف ووٹ دیں پھر بھی ادھو ٹھاکرے کے اتحاد کے پاس جیتنے کیلئے مطلوبہ ووٹ نہیں ہوں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: