ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

جلگاؤں : سہیل کچی نے تیار کی کم قیمت والی آٹومیٹک ہبنڈ سینیٹائزر مشین ، جانئے کیسے کام کرتی ہے یہ مشین

مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طالب علم سہیل کچی نے ایک ایسی آٹومیٹک سینیٹائزر مشین تیار کی ہے ، جو لاگت کے اعتبار سے کافی سستی ہے اور استعمال میں آسان بھی ہے ۔

  • Share this:
جلگاؤں : سہیل کچی نے تیار کی کم قیمت والی آٹومیٹک ہبنڈ سینیٹائزر مشین ، جانئے کیسے کام کرتی ہے یہ مشین
جلگاؤں : سہیل کچی نے تیار کی کم قیمت والی آٹومیٹک ہبنڈ سینیٹائزر مشین ، جانئے کیسے کام کرتی ہے یہ مشین

جلگاؤں : مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طالب علم سہیل کچی نے کورونا سے جاری جنگ میں اپنی حصہ داری نبھاتے ہوئے ایک ایسی آٹومیٹک سینیٹائزر مشین تیار کی ہے ، جو لاگت کے اعتبار سے کافی سستی ہے اور استعمال میں آسان بھی ہے ۔ عام لوگ بھی یہ سینیٹائزر مشین حاصل کرسکتے ہیں ۔ کورونا وائرس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں کہرام مچا رکھا ہے ۔ ہندوستان میں بھی دیڑھ لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد افراد کی جانیں تلف ہوچکی ہیں ۔ اس بیماری کا ابھی تک کامیاب علاج نہیں مل پایا ہے  ، جس کی وجہ سے اس سے بچنے کیلئے احتیاتی تدابیر پر زور دیا جارہا ہے ۔ احتیاتی تدابیر میں یہ بات سر فہرست ہے کہ بار بار ہاتھوں کو صاف کیا جائے ، ماسک کا استعمال کیا جائے اور بھیڑ بھاڑ والے ماحول سے دور رہا جائے ۔


جہاں تک ہاتھوں کو صاف رکھنے کی بات ہے ، تواس کیلئے ہینڈ سینیٹائزر کے استعمال کو لازمی سمجھا جارہا ہے ۔ حکومت نے بھی تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سینیٹائزر کا استعمال کرے ۔ موجودہ حالات میں سینیٹائزر کی اٹومیٹک مشین کی قیمت 20 سے 25 ہزار روپے ہے ۔ ایسے میں تمام اداروں کیلئے یہ مشین استعمال کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سہیل کچی نے اپنی ذہانت کا استعمال کرکے ایک ایسی آٹومیٹک سینیٹائزر مشین بنائی ہے ، جس کی تیاری میں محض تین ہزار روپے کی لاگت آئی ہے ۔


مشین کے ایک حصہ میں باریک نلی لگی ہوئی ہے ، جس کو سینیٹائزر کی بوتل سے جوڑ دیا گیا ہے ۔
مشین کے ایک حصہ میں باریک نلی لگی ہوئی ہے ، جس کو سینیٹائزر کی بوتل سے جوڑ دیا گیا ہے ۔


اس سلسلہ میں سہیل کچی نے کہا کہ میں نے ایک دکان میں دیکھا کہ لوگ وہاں رکھے سینیٹائزر کی بوتل سے اپنے اپنے ہاتھوں کو سینیٹائز کررہے تھے ۔ سینیٹائزنگ کے اس عمل سے تمام لوگ اس بوتل کو چھو رہے تھے ، جس سے یہ اندیشہ ہورہا تھا کہ کورونا متاثرین کے جراثیم دیگر افراد کے جسم پر منتقل نہ ہوجائیں ، ایسے میں سینیٹائزر کی بوتل کو چھوئے بغیر کیسے سینیٹائزنگ کی جا سکتی ہے ، اس پر غور کیا ۔ تب پتہ چلا کہ آٹومیٹک سینیٹائزر کیلئے مشین بنائی گئی ہے ، لیکن مارکٹ میں اس کی قیمت 20 سے 25 ہزار روپے ہے ۔ قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہرکسی کیلئے اس مشین کا استعمال کرنا ممکن نہیں ہے ، ایسے میں اس مشین کی تکنیک کو اپنے انداز میں ڈھال کر محض تین ہزار روپے کی لاگت سے ایک دیسی انداز کی آٹومیٹک سینیٹائزر مشین ایجاد کرلی ۔

مشین کے ایک حصہ میں باریک نلی لگی ہوئی ہے ، جس کو سینیٹائزر کی بوتل سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ جیسے ہی ہاتھ اس نلی کے طرف جاتا ہے ، سینیٹائزر کے قطرے ہاتھ پر گرنے لگتے ہیں ۔ سینیٹائزر لگانے کے فورا بعد انہیں پوری طرح جراثیم سے محفوظ کرنے کیلئے ایک اور روشنی کی شعاؤں کے ڈبے میں ہاتھ کو رکھنا ہے ۔ یہاں کی لائٹ سے جراثیم پوری طرح ختم ہوجاتے ہیں ۔ یہ آٹومیٹک سینیٹائزر میشن بڑے پیمانے پر تیار کرنے کا منصوبہ ہے ۔

واضح رہے کہ پہلے بھی اس نوجوان نے سوچھ بھارت ابھیان کے تحت آٹومیٹک گاربیج مشین بھی تیار کی تھی ۔ اس کے علاوہ ایک ایسا واکی ٹاکی بھی ایجاد کیا تھا ، جس کے ذریعہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر تعینات فوجیوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں مدد ملے اور ان کی گفتگو دشمن ملک کے فوجی بھی نہ سن سکیں ۔ سہیل کچی مستقبل میں بھی اسی طرح کی نئی نئی ایجادات کے ذریعہ نہ صرف اپنا اور اپنے شہر کا بلکہ پورے ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں ۔
First published: May 31, 2020 10:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading