ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مہاراشٹر: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، کل 10:30 بجے سنائے گا اپنا فیصلہ

سپریم کورٹ میں مہاراشٹر سیاسی بحران سے جڑے مسئلے پر سماعت پوری ہو گئی اور اس معاملے میں منگل کی صبح فیصلہ سنایا جائے گا۔

  • ANI
  • Last Updated: Nov 25, 2019 03:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مہاراشٹر: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا، کل 10:30 بجے سنائے گا اپنا فیصلہ
سپریم کورٹ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ مہاراشٹر میں گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دینے کے فیصلے کے خلاف شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کی عرضی پر منگل کو فیصلہ سنائے گا۔ جسٹس این وی رمن، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ کی خصوصی بنچ نے پیر کو مسلسل دوسرے دن سبھی متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس رمن نے کہا کہ ’’ہم کل صبح ساڑھے دس بجے اس پر اپنا فیصلہ سنائیں گے‘‘۔

سپریم کورٹ نے اتوار کو ایک خصوصی سماعت میں فڑنویس اور مہاراشٹر کے گورنر کے درمیان خط وکتابت کے دستاویزات آج ساڑھے دس بجے پیش کرنے کا مرکز کو حکم دیا تھا۔

سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ نے پیر کو خصوصی بنچ کو وہ دونوں خط سونپے، جس کے ذریعہ گورنر نے فڑنویس کو حکومت بنانے کے لئے دعوت دی تھی اور بی جے پی لیڈر نے ارکان اسمبلی کی حمایت کا دعوی کیا تھا۔ مہتہ نے دلیل دی ہے کہ این سی پی لیڈر اجیت پوار کے ذریعہ 22 نومبر کو گورنر کو سونپے گئے خط میں انہوں نے این سی پی کے پورے 54 رکن اسمبلی کی حمایت کا دعوی کیا تھا۔ خط میں ذکرکیا گیا تھا کہ وہ این سی پی لیجسلیٹر پارٹی کے سربراہ ہیں۔



 مہتہ نے گورنر کو فڑنویس کے ذریعہ بھیجے گئے خط کو پڑھا جس میں قبول کیا گیا کہ ان کے پاس 54 این سی پی اراکین اسمبلی سمیت 170 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’’گورنر نے ان کے سامنے موجود دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ عدالت ان کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی۔‘‘ انہوں نے ابتدا میں ہی واضح کردیا تھا کہ وہ گورنر کے سکریٹری کے طور پر پیش ہورہے ہیں کیونکہ گورنر کو عدالتی کارروائی میں ایک پارٹی کے طور پر نہیں بلایا جاسکتا ہے۔

فڑنویس کی طرف سے پیش ہورہے سینئر وکیل مکل روہتگی نے مہتہ کی دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ کہ گورنر کے پاس جب این سی پی اراکین اسمبلی کا خط تھا تو کیا گورنر کو ہر رکن اسمبلی کے پاس جا کر ان کے حمایت کی تصدیق کرنی چاہئے تھی۔ شیوسینا کی جانب سے پیش ہورہے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ 22 نومبر کی شام سات بجے ادھوٹھاکرے کی قیادت میں مہاوکاس اگھاڑی گٹھ بندھن کی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور صبح پانچ بج کر 17 منٹ پر صدر راج ہٹانے کی سفارش کرنے کی جلد بازی کیا تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان چند گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا کہ کسی کو کچھ نہیں معلوم۔

 سبل اور این سی پی کی طرف سے پیش ہورہے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے فورا اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فڑنویس کے پاس اکثریت ہے تو ان کی حکومت اکثریت ثابت کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔

اس پر روہتگی نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کا اپنا طریقہ ہے۔ پہلے پروٹیم اسپیکر کی تقرری ہوگی۔ پھر رکن اسمبلیوں کو حلف دلایا جائے گا۔ اس کے بعد عبوری اسپیکر مقرر کئے جائیں گے پھر اپوزیشن لیڈر منتخب کئے جائیں گے۔ اس کے بعد اعتماد کی تجویز پر بحث ہوگی اور پھر ووٹنگ ہوگی۔ اجیت پوار کی جانب سے سابق ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منندر سنگھ نے پیروی کی۔ عدالت نے سبھی فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ کل صبح ساڑھے دس بجے تک محفوظ کرلیا۔
First published: Nov 25, 2019 11:05 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading