ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ریاست مہاراشٹر میں مذہبی مقامات کے کھلنے کا مزید کرنا ہوگا انتظار ، ہائی کورٹ میں حکومت مہاراشٹر کا جواب

ممبئی ہائی کورٹ میں آج ریاستی سرکار نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مذہبی مقامات و منادر کو کھولا گیا تو اس سے کورونا وباء کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لئے ابھی مذہبی مقامات شروع کر نے پر فیصلہ محفوظ رکھا گیاہے۔

  • Share this:
ریاست مہاراشٹر میں مذہبی مقامات کے کھلنے کا مزید کرنا ہوگا انتظار ، ہائی کورٹ میں حکومت مہاراشٹر کا جواب
ممبئی و ریاست بھر میں مساجد, منادر, خانقاہیں اور مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنا ابھی مشکل۔

ممبئی و ریاست بھر میں مساجد, منادر, خانقاہیں اور مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولنا ابھی مشکل ہے۔ اس لئے عقیدتمندوں کو مذہبی مقامات کے کھلنے کا مزید اتنظار کرنا ہوگاجس کے سبب مساجد, منادر اور خانقاہوں کے ذمہ داروں علماء کرام اور عمائدین شہر نے سخت اعتراضات درج کئے ہیں اور ریاستی سرکار کے اس داخل کردہ حلف نامہ پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ میں آج ریاستی سرکار نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مذہبی مقامات و منادر کو کھولا گیا تو اس سے کورونا وباء کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لئے ابھی مذہبی مقامات شروع کر نے پر فیصلہ محفوظ رکھا گیاہے۔ ریاستی سرکار نے ہائی کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں واضح کیا ہے کہ ابھی مذہبی مقامات کھولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگا۔

جین مندر ٹرسٹ نے15 سے 23 اگست تک مندر میں جاکر پوجا پاٹ کی اجازت طلب کی تھی اس کے بعد ہی دیگر منادر نے بھی مندروں میں پوجا پاٹ کی اجازت طلب کی تھی اور ایڈوکیٹ پرکاش شاہ کے معرفت رٹ پٹیشن داخل کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ میں یہ دلیل دی گئی کہ جام خانوں سے لے کر بیوٹی پارلر اور حجامت خانہ تک کو اجازت دی گئی ہے وہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ اپنی دکانیں شروع کر سکتے ہیں صرف مندر و مذہبی مقامات کو کیوں اجازت نہیں دیا گئی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی سرکار نے مارچ سے لے کر 8 جون تک گائڈ لائن جاری کی تھی لیکن اب بھی ریاستی سرکار کے کچھ وزراء ادھو ٹھاکرے کو گمراہ کر رہے ہیں۔


رضا اکاڈمی روح رواں سعید نوری نے بتایا کہ جسطرح سے بازاروں کو کھولا گیا ہے اور شادیوں کیلئے شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی ہے اسی طرز پر مساجد اور عبادت گاہوں کو بھی اجازت دی جائے تاکہ مسلمان مساجد میں نمازیں پنچگانہ اور عبادتوں کا اہتمام کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو سرکار شادیوں اور دیگر تقریبات کو اجازت دیتی ہے۔ دوسری طرف صرف عبادتگ اہوں پر پابندی عائد کر تی ہے تو یہ دو رخی پالیسی ہے ایسے میں سرکارکو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر نی چاہئے انہوں نے کہا کہ تمام بازار اور دکانیں کھل گئی ہیں، صرف عبادت گاہوں کے کھلنے پر اعتراض کیوں ہے۔

وہیں حاجی علی اور ماہم درگاہ کے منیجنگ ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ایک طرف بازاروں کو کھول دیا گیا ہے صرف مذہبی مقامات پر پابندیاں کیوں سرکار پر ایک مرتبہ عوام کو اعتماد نہیں ہے لیکن اللہ پر تو اعتماد ہے وہ عبادت و ریاضت کرتے ہیں اور کرونا وائرس جیسے حالات میں امید ہی سب کچھ ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے اسی لئے عوام کی امید جو اللہ پر ہے اسے قائم رکھا جائے اور یہ عقیدہ کا معاملہ ہے ہر کسی کا اپنا عقیدہ ہے۔


انہوں نے کہا کہ خانقاہیں عبادتگاہیں اور دیگر مذہبی مقامات کے بند ہونے سے یہاں کے مالی حالات دشوار گزار ہوگئے ہیں اب مذہبی مقامات کے اخراجات پورے کر نا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ درگاہوں, مساجد سمیت مذہبی مقامات میں عطیات نہیں آرہے ہیں اور درگاہوں اور خانقاہوں کے اخراجات تو ختم نہیں ہوئے ہیں یہاں مجاور سے لے کر دیگر خادموں کی تنخواہیں عبادت گاہوں کی بجلی اور پانی کا بل سمیت دیگر اخراجات میں سرکار نے کوئی رعایت نہیں دی ہے جبکہ سرکار کو تو درگاہوں اور مذہبی مقامات کو امداد فراہم کرنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس جیسے حالات میں تو عوام میں عبادت کا جنون پیدا ہوگیاہے ہر کوئی اپنے رب کی حمد و ثنا میں مشغول ہے تو ایسی سنگین صورتحال میں کیا مساجد عبادتگاہوں اور خانقاہوں کو دوبارہ کھولنے پر سرکار کو پیش قدمی کی ضرورت نہیں ہے اس لئے ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ مساجد, خانقاہوں کے ساتھ تمام مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ لوگوں میں پھیلی مایوسی کم ہو اور ان کا اعتماد و اعتقاد اللہ اور اس کے ولیوں پر مضبوط ہو۔
Published by: Sana Naeem
First published: Aug 13, 2020 08:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading