உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ذاکر نائیک کے آئی آر ایف پر پانچ سال کی پابندی کے بعد حکومت مہاراشٹر اب ان کے خلاف کرے گی یہ کارروائی

    مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکول اور اعلیٰ تعلیم ونود تاوڑے نے کہا کہ ریاستی سرکارکو مرکزی حکومت سے ایک بارنوٹیفکیشن موصول ہوجائے اور اس کے بعد محکمہ تعلیم اس ضمن میں اقدامات کرے گا۔

    مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکول اور اعلیٰ تعلیم ونود تاوڑے نے کہا کہ ریاستی سرکارکو مرکزی حکومت سے ایک بارنوٹیفکیشن موصول ہوجائے اور اس کے بعد محکمہ تعلیم اس ضمن میں اقدامات کرے گا۔

    مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکول اور اعلیٰ تعلیم ونود تاوڑے نے کہا کہ ریاستی سرکارکو مرکزی حکومت سے ایک بارنوٹیفکیشن موصول ہوجائے اور اس کے بعد محکمہ تعلیم اس ضمن میں اقدامات کرے گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔ ممبئی میں واقع  ڈاکٹر ذاکر نائیک کی غیر سرکاری (این جی او) تنظیم پر مرکزی حکومت کے ذریعے یو اے پی اے کے تحت پانچ سال کی پابندی کے بعد حکومت مہاراشٹر نے ادارے کی نگرانی میں جنوبی ممبئی میں واقع اسلامک انٹرنیشنل اسکول پر قبضہ کرنے اور ایڈمنسٹر کو بیٹھانے کے منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکول اور اعلیٰ تعلیم ونود تاوڑے نے کہا کہ ریاستی سرکارکو مرکزی حکومت سے ایک بارنوٹیفکیشن موصول ہوجائے اور اس کے بعد محکمہ تعلیم اس ضمن میں اقدامات کرے گا اور پابندی کے بارے میں رائج اصولوں اور ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اس کا بات کا مکمل خیال رکھاجائے گا کہ طلباء اور اساتذہ متاثر نہ ہوں۔اسکول کو کس طرح حاصل کیا جائے گا۔ اس کے بارے میں بعد میں فیصلہ ہوگا۔


      واضح رہے کہ کئی ریاستوں اور ممبئی پولیس کمشنر کی رپورٹوں کے بعد مرکزی کابینہ نے گزشتہ منگل کو اسلامک ریسرچ فاونڈیشن  پر اس کے بانی ذاکر نائیک کی متنازع اور قابل اعتراض تقاریر اور مواد کے پیش نظر مجرمانہ معاملات داخل کیے ہیں ،اس این جی او کے ممبئی ،سندھودرگ کوکن اور جنوبی ریاست کیرالا میں واقع مراکز کے ممبران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایک سرکاری افسر نے کہا کہ پابندی کے بعد حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ،لیکن فی الحال اس بات کی کوشش ہوگی کہ آئی آر ایف کے ٹرسٹی اور عہدیداران اس کا کام کاج نہ دیکھیں،بلکہ ریاستی حکومت ایک ایڈمنسٹر یا ایک اقلیتی ادارہ کی وجہ سے اس کے انتظامیہ کے تحت ہی نگرانی میں رکھا جائے۔ہم فی الحال محکمہ قانو ن وعدلیہ سے مشورہ کررہے ہیں اور ایسا فوری طورپر ممکن نہیں ہے ،امکان ہے کہ تعلیمی سال کے اختتام پر کچھ کیا جائے۔


      بتایا جاتا ہے کہ سرکار ایسے افراد اور مقامی اداروں پر نظررکھے ہوئے ہے جوکہ آئی آرایف کو فنڈ فراہم کررہے ہیں۔ان کے ساتھ غیر سماجی عناصر جیسا سلوک کیاجائے گا۔ ریاستی وزیر مملکت دیپک کیسیکر نے آئی آر ایف پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خاف سخت کارروائی کے حق میں ہیں۔

      First published: