உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر سرکار مسلمانوں کو تعلیم کے لئے مطلوب رقم فراہم کرے گی

    مہاراشٹر کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو تعلیم کے مدمیں جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہو

    مہاراشٹر کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو تعلیم کے مدمیں جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہو

    مہاراشٹر کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو تعلیم کے مدمیں جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہو

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی : مہاراشٹر کے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو تعلیم کے مدمیں جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہو،ریاستی حکومت اسے مہیا کرانے کا وعدہ کرتی ہے،ہمارا تعلیمی بجٹ 44 کروڑ کا ہے لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کی ضرورت ہو تو آپ جامع منصوبہ بنا کر لیں ہم اس پر کام کریں گے،فی الحال ہم مولانا آزاد نیشنل اوپن اردو یونیورسٹی کی شاخ مہاراشٹر میں کھولنے جا رہے ہیں جبکہ لڑکیوں کے لئے ہاسٹل کا انتظام بھی کیا جارہا ہے۔اسی طرح ہم نے سرکاری سطح پر اردو کوآپشنل سبجیکٹ منتخب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے‘۔ان خیالات کا اظہار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فرنویس نے ممبئی کےورلی میں واقع ہوٹل فور سیزن میں تعلیمی سیمینار’’تعلیم کی طاقت‘‘ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ’’ہماری حکومت کسی کے خلاف نہیں ہے نہ ہی ہم کسی کے تہذیب و اقدار پر حملہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم سب کا ساتھ لیں اور سب کا وکاس کریں۔‘‘انہوں نے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامس کے تحت کہا کہ ’’ہم مہاراشٹر میں مختلف پروگرام اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق منعقد کر رہے ہیں لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اس میں شامل کریں تاکہ ہمارے نوجوان ہنر مند بن سکیں۔  حالانکہ وزیر اعلیٰ نے ان تمام امور سے پہلو تہی اختیار کی جس کی وجہ سے اقلتیں موجودہ سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیں اس موقع پر انہوں نے مدارس سے متعلق حکومت کے سابقہ فیصلوں پر بھی گفتگو کرنے سے پہلو تہی کی۔


      واضح رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب مہاراشٹر کے وزیر اعلٰی مسلمانوں کے کسی پروگرام میں شامل ہوئے ہیں اس سے قبل وہ رمضان میں ایک افطار کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔
      پروگرام کے روح رواں مولانا آزاد نیشنل اوپن یونیورسٹی کے چانسلراور وزیر اعظم نریند ر مودی کے حمایتی ظفر سریش والا نے کہا کہ’’ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمانوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے جہاں سے وہ اپنی بات حکومت کے ایوانوں تک پہنچا سکیں،لہذا وہ تعلیم کا پہلو ہی تھا جس کے توسط سے ہم حکومت سے مختلف مطالبات کر سکتے تھے۔ اس وقت ہم نے محض ابتداء کی ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’جب کوئی حکومت منتخب ہوجاتی ہے تو پھر وہ سب کی مشترکہ حکومت ہوتی ہے لہذا ہمیں بھی چاہئے کہ موجودہ حکومت کا ساتھ دیں اور منفی سوچ سے باہر نکل کر ترقی کا راستہ اختیار کریں۔ معروف اسکرپٹ رائٹر سلیم خان جنہوں نے پروگرام کے لئےمذکورہ عنوان ’’تعلیم کی طاقت‘‘کی تجویز ظفر سریش والا کو دی تھی اس موقع پر کہا کہ ’’تعلیم کی طاقت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا،تعلیم ایک ایسا اثاثہ ہے جو ہماری زندگی سجانے سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہےاور اسے ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا ،انہوں نے اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج میں جہاں ہوں اور جو کچھ بھی ہوں اس کی وجہ تعلیم ہی ہے۔‘‘مذکورہ پروگرام کو سیبی کے رکن راجیو اگروال اور یونین بینک کے چیرمین ارون تیواری نے بھی شستہ اردو میں خطاب کیا۔انہوں نے معاشی میدان میں آگے آنے کے لئے تعلیم کی اہمیت کا تذکرہ کیا۔


      مسلمانوں کے اقتصادی معاملات پر کام کرنے والے معیشت گروپ کے ڈائرکٹر دانش ریاض نےاس موقع پر میڈیا سےکہاکہ ’’حکومت کی طرف سے شائع کردہ تمام رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ تعلیمی طور پر مسلمان انتہائی پسماندہ ہیں۔ کچھ رپورٹس ٹیبل بھی ہوئی ہیں لیکن مہاراشٹر میں محمود الرحمن کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی تھی اسے اب تک ٹیبل نہیں کیا گیا ہے۔اگر موجودہ حکومت مسلمانوں کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے محمود الرحمن کمیٹی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے اور اس کی سفارشات پر عمل کرے۔‘‘دانش ریاض نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ مذکورہ رپورٹ کو پبلک ڈومین میں بھی ڈال دیا جائے تاکہ لوگوں کو اس بات کا احساس ہو سکے کہ آخر مسلمان مہاراشٹر میں کن صورتحال کا سامنا کر رہےہیں۔ ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ایس ایم پٹھان نے سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خطاب میں کہا کہ ’’ہمیں تعلیم کے باب میں سنجیدہ ہو جانا چاہئے۔جبکہ وزیر اعلیٰ کو ڈاٹا بینک بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کے لئے ہمیں کمیونل ہارمونی اینڈ پیس فائونڈیشن کے قیام پر غور کرنا چاہئے۔مذکورہ پروگرام میں جہاں مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر،ممبئی مرکنٹائل بینک کے چیرمین ،وژڈم فائونڈیشن کی ڈائرکٹرجنرل وغیرہ نے شرکت کی وہیں بڑی تعداد میں بی جے پی سے وابستہ کارکنان بھی شامل تھے۔

      First published: