ہوم » نیوز » No Category

جانئے : پہلے ایک سال میں فڑنویس حکومت کن وعدوں پر کھری اتری اور کن پر کھوٹی

ممبئی : گزشتہ سال مہاراشٹر میں بی جے پی 122سیٹوں پرجیت کے ساتھ پہلی بار سب سےبڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 01, 2015 09:22 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جانئے  : پہلے ایک سال میں فڑنویس حکومت کن وعدوں پر کھری اتری اور کن پر کھوٹی
ممبئی : گزشتہ سال مہاراشٹر میں بی جے پی 122سیٹوں پرجیت کے ساتھ پہلی بار سب سےبڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔

ممبئی : گزشتہ سال مہاراشٹر میں بی جے پی 122سیٹوں پرجیت کے ساتھ پہلی بار سب سےبڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ حالانکہ شروعات میں بی جے پی کےپاس واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی تشکیل کےلئے اسے مختلف آپشن پر بھی غور کرنا پڑا۔ مگر آخر کار آر ایس ایس کے دباؤ اور شوسینا کی درپردہ کوششوں کے نتیجے میں 25سالہ اتحادی پارٹیوں نے مل کر حکومت تشکیل دیدی۔31 اکتوبر کو اتحادی حکومت کا ایک سال پورا ہورہاہے۔ اسی دن دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تھی۔اقتدار میں آتے ہی وزیر اعظم مودی کےکچھ نعروں کی طرز پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی ایک کے بعد ایک کچھ ایسے فیصلے لئے ، جس سے عوام میں ترقی کے نام پر بھروسہ بھی قائم رکھنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ساتھ اپنا ہندوتو کا ایجنڈا بھی برقرار رکھا ۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں حکومت کے چند فیصلوں پر۔


گوونش ہتیہ بندی قانون کا نفاذ


یوں تو ریاست میںمہاراشٹر انیمل پرزرویشن ایکٹ 1976 کے تحت پہلے سے ہی گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد تھی۔ لیکن فڑنویس حکومت نے اس بل میں ترمیم کےلئے زیر التوا درخواستوں کو صدر جمہوریہ کے پاس دوبارہ بھیج کر گئوونش ہتیہ بندی قانون نافذ کردیا۔ اس قانون کے نتیجہ میں مہاراشٹر میں بڑی تعداد لوگ خاص کر قریش برادری کے لوگ بےروزگار ہوگئے۔فرقہ وارانہ منافرت کو بھی اس کی وجہ سے ریاست میں کافی ہوا ملی۔


مسلم ریزرویشن کی منسوخی


کانگریس -این سی پی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کےلئے تعلیم میں پانچ فیصد ریزرویشن کےلئے پاس کئے گئے آرڈیننس کو بی جے پی حکومت نے منسوخ کردیا۔ جبکہ اسمبلی میں مراٹھا سماج کو 16 فیصد ریزوریشن دینے کی حمایت کی۔ حکومت کی اس جانبداری کو ہندوتو کے ایجنڈا کو تھوپنے کی جانب مزید ایک اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔


آر آر زیڈپالیسی کی منسوخی


میک ان مہاراشٹر کے پیش نظر حکومت نےآر آر زیڈ یعنی ریور ریگولیشن زون کو بھی منسوخ کر کے اس بات کی طرف واضح اشارہ دیدیا کہ ترقی کے لئے حکومت صنعت کاری کو اولین ترجیح دے گی۔ اس معاملہ پر جہاں اپوزیشن نے اس کو ریاست کے مقامی لوگوں کی حقوق تلفی قرار دیا وہیں ماحولیات کےلئےکام کرنے والے کارکنان نے بھی اس کی یہ کہتے ہوئے شدید نکتہ چینی کی کہ اس سے ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ ہے۔


جل شور اسکیم


مہاراشٹرحکومت نےدو منصوبوں پر سب سے زیادہ زور دینے کی کوشش کی ہے ، جس میں ایک پانی کی قلت کو دور کرنا اور دوسرے بیرون ممالک سرمایہ کاری کو ریاست میں لانا۔ حکومت کے مطابق اس کا سب سے اہم اور پہلا منصوبہ ریاست میں پانی کی قلت دور کرنا اور زراعت کی راہ کو مزید ہموار کرنا اور ترقی پذیر بنانا ہے۔ اس کے لئے حکومت نے جل شور اسکیم کے نام سے ایک مہم شروع کی ۔ فڑنویس کے مطابق حکومت نے24000 دیہاتوں کو پانی کی قلت سے نجات دلانے کا ہدف لیاتھا اور اب محض14000 دیہات پانی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے 6200 دیہاتوں میں ایک لاکھ بیس ہزار مختلف کام انجام دے کر اس منصوبے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ کے اس دعوے کی مراٹھواڑہ میں پوری طرح سے قلعی کھل گئی اور وہ اس سال سوکھے سے متاثر رہا۔


میک ان مہاراشٹر


ریاستی حکومت میک ان مہاراشٹر کے لئے زراعت سے زیادہ صنعت کاری کو اہمیت دیتی ہوئی نظر آئی ۔حکومت کی مانیں تو زراعت کے مقابلے صنعت کاری سے زیادہ روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے وزیر اعلیٰ مختلف ممالک کا دورہ کر کے بیرون ممالک سرمایہ کاری ریاست میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


دیگر پروجیکٹ


اس کے علاوہ چھوٹے بڑے ایسے کئی پروجیکٹس ہیں، جس کو آئندہ چار سالوں میں مکمل کرنے کا حکومت یقین دلا رہی ہے۔ان میں ممبئی کا ہربر سی لینک، گرین ٹربیونل،میٹرو پروجیکٹ، سڑکیں اور نیشنل ہائی ویز اور دین دیال اپادھیائے مکان اسکیم وغیرہ شامل ہیں۔


بدعنوانی کے الزامات


یوں تو حکومت ہر موقع پر شفاف طریقہ کار کا دعوی کرتی رہی ہے ، مگر حکومت کے کچھ وزرا پر بد عنوانی کے الزامات بھی عائد ہوچکے ہیں ۔ان میں ریاستی وزیر ونود تاؤڑے کانام پیش پیش ہے ۔علاوہ ازیں پنکجا منڈے بھی چکی گھوٹالہ کی زد میں آچکی ہیں اور حال ہی میں خود فڑنویس پر وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگا ہے ، جس کے بعد اپوزیشن نے حکومت کو جم کر آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا ہے ۔ادھر حکومت کی اتحادی جماعت شوسینا بھی حکومت کو ہرمحاذ پر گھیرتے ہوئے نظر آرہی ہے۔


اب جبکہ مہاراشٹر کو مرکز کی طرف سے سب سے زیادہ فنڈ مل رہا ہےاور دوسری طرف مہاراشٹر پر قرض کا بوجھ بھی ہے ، ایسے میں حکومت تمام ترقیاتی منصوبے کہا ںتک پورے کرپاتی ہے ، یہ تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا۔ فی الحال شیوسینا کے تیور دیکھ کر یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ فڑنویس حکومت قائم رہ بھی پائے گی یا نہیں؟


مہاراشٹر میں دیویندر فڑنویس حکومت کے ایک سال پورے ہونے پر رضوان خان کی خصوصی رپورٹ

First published: Oct 31, 2015 09:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading