ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

داعش سے تعلق کا الزام : عرشی قریشی کی ضمانت کی درخواست نامنظور، ہائی کورٹ جانے کا اعلان

داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار عرشی قریشی کی درخواست ضمانت کو آج سیشن کورٹ نے نامنظور کردیا ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 17, 2018 11:20 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش سے تعلق کا الزام : عرشی قریشی کی ضمانت کی درخواست نامنظور، ہائی کورٹ جانے کا اعلان
علامتی تصویر

ممبئی: داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار عرشی قریشی کی درخواست ضمانت کو آج سیشن کورٹ نے نامنظور کردیا ہے ۔ گزشتہ کل اس پر بحث مکمل ہوگئی تھی ، جس پر عدالت نے آج اپنا فیصلہ دیتے ہوئے ضمانت کو نامنظور کردیا ۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اس مقدمے کی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکلاء نے اب ہائی کورٹ میں درخواستِ ضمانت داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے دی ہے۔ واضح رہے کہ عرشی قریشی کو گزشتہ سال مارچ میں داعش سے تعلق اور مسلم نوجوانوں کو داعش میں شمولیت پر آمادہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں کام کررہے تھے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق گزشتہ کل عدالت کے رخ اور بحث کی نوعیت کے پیشِ نظر ہم اس بات کی توقع کررہے تھے کہ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کردے گی ، مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ ہم اب ہائی کورٹ میں ضمانت کی اپیل کریں گے ، ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ ضمانت منظور کرلے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر اس طرح کے مقدمات میں نچلی عدالتوں سے ضمانت بہت کم ملتی ہے، مگر چونکہ ملزم کے خلاف کوئی مقدمہ ہی نہیں بنتا تھا اور بحث بھی مثبت رخ پر ہوئی تھی، اس لئے ہمیں امید تھی کہ اسی عدالت سے ملزم کو ضمانت مل جائے گی۔

سیشن عدالت میں اس مقدمہ کی قانونی پیروی کرنے میں ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان کے ساتھ ایڈوکیٹ عشرت علی خان بھی تھے۔ ان وکلاء کے مطابق عرشی قریشی کے ساتھ رضوان خان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر وہی الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ ان دونوں پر یوپی اے کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو ریا ستی حکومت کے دائر اختیار میں نہیں آتا۔یہ باتیں ہم ملز مین کی گرفتاری کے وقت سے اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اب تک کی تفتیش میں ایجنسیاں ایسا کوئی ثبوت عدالت کے روبر پیش نہیں کرسکی ہیں جس کی بناء پر ملزم پر عائد الزامات صحیح ثابت ہوسکے۔ یہ بات عدالت نے بھی نوٹ کی ہے۔یہی نہیں بلکہ جن الزامات کے تحت ملز م کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اگر ان کا باریک بینی سے جائزہ  لیا جائے توان پر یو اے پی اے کے تحت کوئی مقدمہ ہی نہیں بنتا ،کیو نکہ اس کے لئے مر کزی حکومت سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہو تا ہے ۔

First published: Jan 17, 2018 11:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading