உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راتوں رات کروڑ پتی بن گیا ممبئی کا یہ ماہی گیر ، 1.33 کروڑ روپے میں بکنی 157 گھول مچھلی

    راتوں رات کروڑ پتی بن گیا ممبئی کا یہ ماہی گیر ، 1.33 کروڑ روپے میں بکنی 157 گھول مچھلی

    راتوں رات کروڑ پتی بن گیا ممبئی کا یہ ماہی گیر ، 1.33 کروڑ روپے میں بکنی 157 گھول مچھلی

    گھول مچھلی یعنی جسے سمندری سونا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نام 'پروٹونیبیا ڈیاکینتھس' بھی ہے ۔ اس مچھلی کو سونے کے دل والی مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ممبئی : ایک کہاوت ہے کہ جب اوپر والا دیتا ہے تو چھپڑپھاڑ کر دیتا ہے۔ یہ کہاوت  ممبئی سے متصل پال گھر کے ماہی گیر کے لئے سچ ثابت ہوئی ۔ پالگھر کے ماہی گیر چندر کانت ترے کے ساتھ ایسا ہی کرشمہ ہوا ۔ مانسون کے دوران سمندر میں ماہی گیری پر پابندی ہے ، چندرکانت پہلی بار 28 اگست کی رات کو بحر عرب میں ماہی گیری کے لئے گیا تھا ۔ قدرت کا کرشمہ دیکھئے اس کی جال میں ایک دو نہیں بلکہ 157 گھول مچھلی پھنس گئی ۔ ان مچھلیوں کو چندرکانت اور ان کے بیٹے سومناتھ ترے نے کل 1.33 کروڑ میں فروخت کیں۔ یعنی اسے ایک مچھلی کے لئے تقریبا 85 ہزار روپے ملے ۔

    مارکیٹ میں گھول مچھلی کی بہت قیمت ہے۔ یہ مچھلی طبی علاج میں فائدہ مند ہوتی ہے ۔ چندرکانت ترے کے بیٹے سومناتھ نے بتایا کہ چندرکانت ترے سمیت آٹھ لوگوں کے ساتھ ہاربا دیوی نامی کشتی میں مچھلی پکڑنے گئے تھے ۔ تمام ماہی گیر سمندر کے کنارے سے 20 سے 25 ناٹیکل میل اندر وادھوان کی طرف گئے۔ ماہی گیروں کو 157 گھول مچھلی ملی ، جسے سمندری سونا بھی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ ان مچھلیوں کی قیمت سونے سے کم نہیں ہے۔

    گھول مچھلی یعنی جسے سمندری سونا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نام 'پروٹونیبیا ڈیاکینتھس' بھی ہے ۔ اس مچھلی کو سونے کے دل والی مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ گھول مچھلی طبی علاج ، ادویات ، کاسمیٹکس کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ تھائی لینڈ ، انڈونیشیا ، جاپان ، سنگاپور جیسے ممالک میں ان مچھلیوں کی بہت مانگ ہے۔ سرجری کے لئے استعمال ہونے والے دھاگے ، جو خود پگھل جاتے ہیں ، وہ بھی اسی مچھلی سے بنائے جاتے ہیں۔

    ان مچھلیوں کو یوپی اور بہار کے تاجروں نے خریدی ہیں ۔ پالگھر کے مربے میں مچھلی کی نیلامی ہوئی ۔ سمندر میں آلودگی کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے یہ مچھلیاں ساحل پر نہیں پائی جاتیں ۔ ان مچھلیوں کے لئے ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں جانا پڑتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: