ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

شرمناک! شادی کے بعد دوبہنوں کا زبردستی کرایا ورجینیٹی ٹیسٹ ، پھر شوہروں نے کیا ایسا گھنونا کام ، جان کر رہ جائیں گے دنگ

پولیس کو لکھے گئے اپنے خط میں ایک بہن نے بتایا ہے کہ ہم نے کرناٹک کے بیلگام میں شادی کی اور شادی کے چار دن بعد ہی ہمیں اپنے سسرال والوں کی اذیت کا سامنا کر نا پڑا ۔ ہمیں ور جینیٹی ٹیسٹ سے گزرنا پڑا اور پانچویں دن کرناٹک سے ہمیں کولہاپور بھیج دے گیا ۔

  • Share this:
شرمناک! شادی کے بعد دوبہنوں کا زبردستی کرایا ورجینیٹی ٹیسٹ ، پھر شوہروں نے کیا ایسا گھنونا کام ، جان کر رہ جائیں گے دنگ
شرمناک! شادی کے بعد دوبہنوں کا زبردستی کرایا ورجینیٹی ٹیسٹ ، پھر شوہروں نے کیا ایسا کام

ممبئی : مہاراشٹر کے کولہا پور کی دو بہنوں میں سے ایک کے مبینہ طورپر ورجینیٹی ٹیسٹ میں فیل ہونے پر اس کے شوہر نے اس کو طلاق دے دیا ۔ یہ فیصلہ پنچایت میں کیا گیا ۔ ان بہنوں نے اپنے شوہروں کے خلاف معاملہ درج کروایا ہے ۔ مہاراشٹر کے کولہا پور ضلع کی دو بہنوں نے الزام لگایا کہ ان کی شادی کے بعد درجینیٹی ٹیسٹ کرایا گیا ۔ ان میں سے ایک کے مبینہ طور پر ٹیسٹ میں فیل ہونے کے بعد طلاق دے دیا گیا ۔ دونوں بہنوں کے شوہروں کو کمیونیٹی پنچایت سے طلاق کی اجازت  دے گئی ۔


پولیس کو لکھے گئے اپنے خط میں ایک بہن نے بتایا ہے کہ ہم نے کرناٹک کے بیلگام میں شادی کی اور شادی کے چار دن بعد ہی ہمیں اپنے سسرال والوں کی اذیت کا سامنا کر نا پڑا ۔ ہمیں ور جینیٹی ٹیسٹ سے گزرنا پڑا اور پانچویں دن کرناٹک سے ہمیں کولہاپور بھیج دے گیا ۔ کولہا پور کے کنجر بھٹ سماج کی دونوں بہنوں کی شادی نومبر2020 میں ان کے ہی سماج کے دو لڑکوں سے ہوئی تھی۔ متاثرہ کے مطابق خاندان نے سسرال والوں کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن حالات بہتر نہیں ہوئے ۔


متاثرہ کے مطابق ہمارے گھروالوں نے سسرال والوں کو راضی کرنے کی کافی کوشش کی ، مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ فروری کے مہینے میں ہمارے سسرال والوں کی موجودگی میں کمیونیٹی پنچایت نے ہمارے طلاق کا اعلان کردیا ۔ ان بہنوں کی مدد کیلئے مہاراشٹر شردھا نرمولن سمیتی سے رابطہ کیا گیا اور شوہروں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ۔ پولیس نے اس ضمن میں شوہر اور سسرال والوں سمیت آٹھ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ دونوں بہنیں اپنے شوہروں پر آبروریزی کا معاملہ درج کرانے کا مطالبہ کررہی ہیں۔


مہاراشٹر اندھ شردھا نرمولن سمیتی کے ایک رکن سجاتا مہاترے کے مطابق ان مردوں کو پہلے دونوں لڑکیاں پسند نہیں تھیں ۔ انہوں نے لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا اور اس کی آبروریزی کا معاملہ درج ہونا ضروری ہے ۔ ور جینیٹی ٹیسٹ ایک گھنونا کام ہے ۔ ایسی پنچایتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے رسم وراج کو ختم کیا جائے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 11, 2021 08:15 PM IST