ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی ماہم کا میلہ کورونا وبا کی نذر ، دسمبر میں ہونے والے میلہ کی اجازت مشکل

ممبئی کے حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ میلہ ہر سال بڑے ہی تزک واہتمام سے منعقد کیا جاتا ہے ۔ یہ میلہ ممبئی کی ثقافت کا حصہ ہوگیا ہے ۔ لیکن اب ماہم کا یہ میلہ بھی کورونا وائرس کی نذرہوگیا ہے ۔

  • Share this:
ممبئی ماہم کا میلہ کورونا وبا کی نذر ، دسمبر میں ہونے والے میلہ کی اجازت مشکل
ممبئی ماہم کا میلہ کورونا وبا کی نذر ، دسمبر میں ہونے والے میلہ کی اجازت ملنی مشکل

ممبئی : ممبئی کے حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ میلہ ہر سال بڑے ہی تزک واہتمام سے منعقد کیا جاتا ہے ۔ یہ میلہ ممبئی کی ثقافت کا حصہ ہوگیا ہے ۔ لیکن اب ماہم کا یہ میلہ بھی کورونا وائرس کی نذرہوگیا ہے ۔ ممبئی اور ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور وبا عروج پر ہونے کی وجہ سے امسال ماہم میلہ منسوخ کردیا گیا ہے ۔ تاکہ کورونا وبا پر قابو پایا جاسکے ۔ اب تک ماہم میلہ کے انعقاد سے متعلق پولیس اور سرکار نے بھی کوئی گائیڈ لائن جاری نہیں کی ہے ، اس لئے امسال میلہ کا انعقاد مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آرہا ہے۔


ممبئی میں حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ پر ہر سال دسمبر میں ممبئی پولیس اپنا پہلا صندل پیش کر تی تھی اور میلہ کا انعقاد ہوتا تھا لیکن امسال کورونا کے سبب میلہ کا انعقاد بھی مشکل ہے ۔ کیونکہ انتظامیہ نے اب تک اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھیڑ بھاڑ میں زیادہ ہوتا ہے اور حاضرین و میلہ میں آنے والوں کو قابو کرنا انتظامیہ اور درگاہ ٹرسٹ کے دسترس سے باہر ہے ، اس لئے درگاہ ٹرسٹ نے بھی انسانیت کے ناطے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر سرکار اور انتظامیہ اجازت فراہم کرتی ہے تو ہی وہ درگاہ کا سالانہ میلہ سے متعلق کوئی اقدام کر سکتی ہے بصورت دیگر امسال میلہ نہیں ہوگا۔


ماہم درگاہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظہر ہے ۔
ماہم درگاہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظہر ہے ۔


حضرت مخدوم پیر صاحب چیرئیٹبل ٹرسٹ اور ماہم و حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ آستانہ مخدوم کی قدیم روایت ہے کہ یہاں دسمبر میں پولیس روایتی انداز میں صندل چڑھاتی ہے اور میلہ کا انعقاد ہوتا ہے ، لیکن امسال یہ مشکل ہے ۔ کیونکہ کورونا وائرس کا خطرہ اب بھی بر قرار ہے ۔ اگر بھیڑ بھاڑ سے کورونا پھیلتا ہے تو میلہ کا انعقاد کرنا حماقت ہوگی ، لیکن اس کے باوجود روایتی صندل و دیگر رسومات کی ادائیگی پر درگاہ انتظامیہ غور و خوص کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آستانہ مخدومیہ پر ہر مذہب کے ماننے والے حاضری دیتے ہیں ۔ اگر ایسے میں بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے تو اس کو قابو کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ پولیس و انتظامیہ بھی اس سے قاصر ہوگی ، اس لئے ہم نے صرف متعلقین اور انتظامیہ و پولیس کو مکتوبات ارسال کر کے اجازت طلب کی ہے ، جس میں ہم نے کہا ہے کہ اگر کورونا اصول و ضوابط کے ساتھ میلہ یا دیگر رسومات کی اجازت دی جاتی ہے تو میلہ کا انعقاد ہوگا بصورت دیگر درگاہ انتظامیہ پولیس و سرکار کے ساتھ تعاون کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ماہم درگاہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظہر ہے ۔ یہاں بلا مذہب و ملت بلا تفریق زائرین نہ صرف حاضری دیتے ہیں ، بلکہ مخدوم صاحب سے انہیں بے پناہ عقیدت و محبت بھی ہے ، ایسی صورتحال میں میلہ میں ہونے والی بھیڑ بھاڑ پر قابو پانا مشکل ہے ، اس لئے ہم میلہ کیلئے بضد نہیں ہیں ۔ کیونکہ انسانی جانوں کا تحفظ سب پر عائد ہوتا ہے ۔ ہم انسانی جان کا ضیاع یا اسے خطرہ میں نہیں ڈال سکتے ۔ سرکار اس معاملہ میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قابل قبول ہوگا ۔ اگر انتظامیہ میلہ کی اجازت نہیں دیتی ہے تو اسے بھی قبول کیا جائیگا ۔ ہم پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ آستانہ مخدوم تاریخی نوعیت و اہمیت کا حامل ہے، اس لئے یہاں آنے والے زائرین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے ۔ اگر درگاہ  میں بھیڑ بھاڑ کے سبب کورونا وبا پھیلتی ہے ، تو یہ بدنامی کا باعث ہوگی ، اس لئے ہم حفظ ماتقدم کے طور پر انتظامیہ اور سرکار کے ساتھ تعاون کریں گے اور جو فیصلہ لیا جائے گا اس پر ہی عمل آوری ہوگی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 10, 2020 05:10 PM IST