ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی : ورلی ، بائیکلہ اور دادر بنے ڈینگو کے ہاٹ اسپاٹ ، جانئے کتنے کیسیز آئے سامنے

عام طور پر ڈینگو کے کیسز میں اضافہ ستمبر سے دیکھا جاتا ہے ، لیکن اس بار ڈینگو کی وبا اگست سے ہی شروع ہوگئی تھی ۔ اگست میں ڈینگو کے 144 کیس پائے گئے۔ اس وقت باندرہ ، سینڈھرسٹ روڈ اور پریل ہاٹ سپاٹ تھے ۔ اب ڈینگو کا اثر ورلی ، بائیکلہ اور دادر جیسے گنجان آباد علاقوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

  • Share this:
ممبئی : ورلی ، بائیکلہ اور دادر بنے ڈینگو کے ہاٹ اسپاٹ ، جانئے کتنے کیسیز آئے سامنے
ممبئی : ورلی ، بائیکلہ اور دادر بنے ڈینگو کے ہاٹ اسپاٹ ، جانئے کتنے کیسیز آئے سامنے

ممبئی : ورلی اور دھاراوی جو کووڈ کے ابتدائی مرحلہ میں کورونا ہاٹ سپاٹ تھے ، اب ڈینگوکے ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں ۔ یہی حال بائیکلہ اور دادر کا بھی ہے۔ گزشتہ 12 دنوں میں ڈینگو کے 85 مریض پائے گئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق ان علاقوں سے ہے ۔ ورلی میں ڈینگو اور ملیریا کے مچھروں کو مارنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود یہاں مچھر تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ عام طور پر ڈینگو کے کیسز میں اضافہ ستمبر سے دیکھا جاتا ہے ، لیکن اس بار ڈینگو کی وبا اگست سے ہی شروع ہوگئی تھی ۔ اگست میں ڈینگو کے 144 کیس پائے گئے۔ اس وقت باندرہ ، سینڈھرسٹ روڈ اور پریل ہاٹ سپاٹ تھے ۔ اب ڈینگو کا اثر ورلی ، بائیکلہ اور دادر جیسے گنجان آباد علاقوں میں دیکھا جا رہا ہے۔


جی ساؤتھ وارڈ پیسٹ کنٹرول افسر پرشانت کمبلے نے بتایا کہ جنوری سے اب تک ڈینگو مچھروں کی 2200 افزائش گاہیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی 679 افزائش گاہیں تباہ ہو چکی ہیں ۔ یکم جنوری سے 12 ستمبر تک 3606 ملیریا کے مریض ممبئی میں پائے گئے ۔ روزانہ اوسطا ملیریا کے 14 مریض پائے جاتے ہیں۔ ستمبر میں ملیریا کے 210 مریض صرف 12 دنوں میں پائے گئے ہیں ۔


اعداد و شمار پر ایک نظر


کورونا کے علاوہ دیگر بیماریاں بھی ممبئی کو اپنی زد میں لے رہی ہیں ۔ یکم ستمبرسے 12 ستمبر تک ملیریا کے 210 ، لیپٹو کے 18 ، ڈینگو کے 85 ، گیسٹرو کے 92 ، ہیپاٹائٹس کے 14 اور ایچ 1 این 1 کے 6 کیس سامنے آئے ہیں ۔

بی ایم سی کی جانب سے ان بیماریوں کے پھیلاؤ کو جلد از جلد روکنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں ، جس کیلئے کئی اہم انتظامات کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپتالوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہاں آنے والے مریضوں کا علاج کیا جا سکے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 15, 2021 08:34 PM IST