உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہ چکھا چاکلیٹ۔بسکٹ اور نہ ہی کھایا کبھی کوئی کھانا،صرف دودھ پی کر جی رہا ہے17 سال کا یہ لڑکا

    چندر پور ضلع کی تحصیل پوبورنہ میں ایک گاؤں جام خورد ہے۔ گروداس مڈاوی اسی گاؤں میں رہتے  ہیں۔ گروداس کے بیٹے کا نام بھوجنگ ہے  جس نے پیدائش سے لے کر آج تک (عمر 17 سال) دودھ کے سوا کچھ نہیں کھایا۔

    چندر پور ضلع کی تحصیل پوبورنہ میں ایک گاؤں جام خورد ہے۔ گروداس مڈاوی اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ گروداس کے بیٹے کا نام بھوجنگ ہے جس نے پیدائش سے لے کر آج تک (عمر 17 سال) دودھ کے سوا کچھ نہیں کھایا۔

    چندر پور ضلع کی تحصیل پوبورنہ میں ایک گاؤں جام خورد ہے۔ گروداس مڈاوی اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ گروداس کے بیٹے کا نام بھوجنگ ہے جس نے پیدائش سے لے کر آج تک (عمر 17 سال) دودھ کے سوا کچھ نہیں کھایا۔

    • Share this:
    آپ یہ سن کر حیران ہوں گے لیکن ہمارا سوال آپ سے ہے کہ کیا کوئی پیدائش سے لے کر آج تک دودھ پر ہی جی سکتا ہے لیکن یہ ایسا ایک نوجوان ہے جس کی عمر 17 سال ہے جو صرف دودھ پی کر زندگی گزار رہا ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے ؟ اس سوال پر ہمارا جواب ہاں ہے ۔ صرف دودھ پی کر زندہ رہا جا سکتاہے، یہ کہانی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کی ہے۔

    چندر پور ضلع کی تحصیل پوبورنہ میں ایک گاؤں جام خورد ہے۔ گروداس مڈاوی اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ گروداس کے بیٹے کا نام بھوجنگ ہے جس نے پیدائش سے لے کر آج تک (عمر 17 سال) دودھ کے سوا کچھ نہیں کھایا۔ بھوجنگ 23 اگست 2005 کو گروداس اور سنیتا کے گھر پیدا ہوئے، لیکن پیدائش کے بعد سے ہی بھوجنگ نے اپنا غیر معمولی ہونے کا ثبوت دیا۔ پیدائش کے بعد 12 دن تک بھوجنگ نے آنکھیں نہیں کھولیں اور نہ ہی ماں کا دودھ پیا اور تیرہویں دن اس نے آنکھیں کھولیں اور ماں کا دودھ پیا، تب جا کرسب کے جان میں جان آئی۔ بھوجنگ کے والد گروداس نے بتایا کہ جب بھوجنگ کی پیدائش ہوئی تو 6-7 ماہ کے بعد اسے دال اور چاول کھلانے کی بہت کوشش کی گئی ، اسے بسکٹ دینے کی کوشش کی گئی ، لیکن تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی تو بھوجنگ چیخ اٹھتا اور پورا گھر سر پر اٹھالیتا۔



    بچپن سے ہی یہ بھوجنگ کا انداز رہا ہے۔گروداس بہت غریب ہیں سخت محنت صرف اس کے پیٹ کا سہارا ہے ، ایسی صورت میں دودھ کی قیمت اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ بھوجنگ آدھے لیٹر دودھ میں زندہ رہتا ہے ، کئی بار دودھ دستیاب نہیں ہوتا ہے تو وہ خالی پیٹ ہی زندہ رہتا ہے لیکن دال ، چاول اور روٹی نہیں کھاتا۔ گروداس کے مطابق بھوجنگ کا علاج اس کی عمر کے چھ سال تک کیا گیا تھا تاکہ وہ کھانا کھا سکے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، صرف دودھ ہی اس کی غذا بن گئی۔

    ڈاکٹروں کے مطابق بھوجنگ طبی لحاظ سے فٹ ہے ، بصورت دیگر یہ متوازن غذا نہیں ہے لیکن اس کا بھوجنگ پر کوئی اثر نہیں ہے۔ بھوجنگ دسویں کا طالب علم ہے وہ دیوڈا خورد گاؤں میں راشرماتہ اسکول سے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ لکھ نہیں سکتا ، پڑھ سکتا ہے اور بول نہیں سکتا۔ اس کی تعلیم کا مطلب نقل میں لکیریں کھینچنا ہے لیکن وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ب ھوجنگ میڈیکل سائنس کے لئے ایک بہت بڑا موضوع ہے لیکن آج تک بھوجنگ کے بارے میں کوئی طبی مطالعہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی نے بھوجنگ کے دودھ کا مسئلہ حل کیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: