ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ادھو ٹھاکرے سے اختلاف کے درمیان شرد پوار نے بلائی اہم میٹنگ، این سی پی کے سبھی وزرا ہوں گے شامل

مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی میں کھینچ تان چل رہی ہے۔ بھیما کورے گاؤں معاملہ این آئی اے کو سونپے جانے سے شرد پوار ناراض ہیں۔

  • Share this:
ادھو ٹھاکرے سے اختلاف کے درمیان شرد پوار نے بلائی اہم میٹنگ، این سی پی کے سبھی وزرا ہوں گے شامل
شرد پوار اوروزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے

ممبئی۔ مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی میں کھینچ تان چل رہی ہے۔ بھیما کورے گاؤں معاملہ این آئی اے کو سونپے جانے سے شرد پوار ناراض ہیں۔ اتحاد میں اندرونی اختلافات کے بیچ این سی پی چیف شردپوار نے آج پارٹی لیڈروں کی میٹنگ طلب کی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ این سی پی چیف پارٹی کے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔حالانکہ گزشتہ دنوں ہوئی کسانوں کی ریلی میں شرد پوار اور وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے ایک ساتھ اسٹیج پر نظر ضرور آئے تھے لیکن اندر خانے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ شرد پوار کا ماننا ہے کہ بھیما کورے گاؤں کیس کی جانچ کرنے کا اختیار ریاست کو ہے۔ بھیما کورے گاؤں معاملے میں پولیس کی کاروائی کی جانچ ہونی چاہیے۔


این سی پی چیف شردپوار


کئی معاملوں پر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اختلاف کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار نے آج اپنے گھر پر ایک اہم میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں ریاستی سرکار میں شامل این سی پی کوٹے کے سبھی 16 وزرا شامل ہوں گے۔ اس میٹنگ کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔


شردپوار نے شیوسینا کے تئیں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ’ بھیما۔ کوریگاؤں معاملہ میں مہاراشٹر پولیس کے کچھ افسران کا رویہ قابل اعتراض تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ان افسران کے رویوں کی بھی جانچ کی جائے، لیکن جس دن صبح مہاراشٹر حکومت کے وزرا نے پولیس افسران سے ملاقات کی، اسی دن شام کو تین بجے مرکز نے پورے معاملہ کو این آئی اے کو سونپ دیا۔ آئین کے مطابق، یہ غلط ہے کیونکہ مجرمانہ معاملوں کی جانچ ریاست کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
First published: Feb 17, 2020 10:21 AM IST