உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے سے بڑے لیڈر ہوئے اویسی، ایم آئی ایم نے ایم این ایس کو چھوڑا پیچھے

    رکن پارلیمنٹ وصدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی : فائل فوٹو۔

    رکن پارلیمنٹ وصدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی : فائل فوٹو۔

    انتخابی نتائج میں ایم این ایس کو 14 سیٹ تو اویسی کی پارٹی کو 36 نشستیں ملی ہیں۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ کیا مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے راج ٹھاکرے سے بڑے لیڈر ہو گئے ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو دو دن سے مہاراشٹر کے ہر گلی چوراہے پر بات چیت کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس سوال کو جنم دیا ہے حال ہی میں آئے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے۔

      انتخابی نتائج میں ایم این ایس کو 14 سیٹ تو اویسی کی پارٹی کو 36 نشستیں ملی ہیں۔ اس سے پہلے بھی اسمبلی انتخابات میں ایم این ایس کا ایک رکن اسمبلی بنا تھا تو اویسی کے دو امیدوار الیکشن جیتے تھے۔

      حال ہی میں مہاراشٹر میں میونسپل کونسل انتخابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتائج کا اعلان پیر کو کر دیا گیا۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس جہاں تمام سیٹوں پر قسمت آزمانے اتری تھی تو اسد الدین اویسی کی پارٹی نے صرف بلدیاتی انتخابات میں 120 سیٹ پر ہی اپنے امیدوار اتارے تھے۔ لیکن انتخابات کے نتائج دونوں ہی پارٹی کے لئے چونکانے والے رہے۔

      نتائج دیکھ کر جہاں ایم آئی ایم میں خوشی کی لہر ہے، وہیں ایم این ایس سوچ میں پڑ گئی ہے۔ اگر اسمبلی کی بات کریں تو وہاں بھی ایم آئی ایم ، ایم این ایس پر بھاری پڑ رہی ہے۔ اسمبلی میں اویسی کے دو رکن اسمبلی ہیں تو ایم این ایس کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ بیشک انتخابی نتائج ایک عام عمل ہیں۔ لیکن نتائج نے نئی بات چیت کو جنم دے دیا ہے۔ پہلی بار بلدیاتی انتخابات لڑنے اتری ایم آئی ایم نے جیت کے ساتھ ہی ایک سوال بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہر کوئی بس ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا مہاراشٹر میں اویسی راج ٹھاکرے سے بڑے ہو گئے ہیں۔ مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے کا پرانا دبدبہ ہے۔ جبکہ ایم آئی ایم مہاراشٹر کے لئے نئی پارٹی ہے۔

      مہاراشٹر کے بیڑ سے ایم آئی ایم ممبر اسمبلی امتیاز علی بتاتے ہیں کہ میڈیا سمیت تمام نے مل کر ہماری پارٹی کو بہت غلط طریقے سے پیش کیا تھا۔ باوجود اس کے ہم نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ ہم دوسرے مرحلے کے انتخابات کی تیاری میں لگ گئے ہیں۔ امید ہے کہ اس بار بھی ہماری پارٹی اچھی کارکردگی کرے گی۔
      First published: