உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قرض اتارنے کیلئے اپنی ہی کمپنی کو لوٹنے کی سازشس، لاکھوں روپے لوٹنے کی کہانی سے پولیس نے اٹھایا پردہ

     گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ جس شخص نے یہ مقدمہ درج کیا تھا وہ خود اس میں ملوث تھا۔ انہوں نے مل کر یہ پوری کہانی گڑھی ہے۔

    گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ جس شخص نے یہ مقدمہ درج کیا تھا وہ خود اس میں ملوث تھا۔ انہوں نے مل کر یہ پوری کہانی گڑھی ہے۔

    گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ جس شخص نے یہ مقدمہ درج کیا تھا وہ خود اس میں ملوث تھا۔ انہوں نے مل کر یہ پوری کہانی گڑھی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ایسے توقرض لینا اور دینا عام بات ہے ، لوگ اکثر اپنی ضروریات کے مطابق قرض لیتے ہیں اور پھر اپنی آمدنی کے مطابق واپس کردیتے ہیں ، لیکن آپ نے کم ہی سنا ہوگا کہ قرض کی ادائیگی کے لئے کوئی جرم کو بھی انجام دیا ہوگا۔ ایسا ہی ایک کیس سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسی کمپنی میں ملازم کی تنخواہ لوٹنے کی سازش کی جس میں وہ کام کر رہا تھا اور خود بھی تھانے  میں گیا اور  من گھڑت سنائی کی راستے میں جاتے وقت پانچ افراد پیچھے سے آئے اور مجھے مارا پیٹا اور ملازمین کی تنخواہ کے سات لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے اس طرح کی رپورٹ لکھوائی۔

    رپورٹ درج کرنے کے بعد پولیس نے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ پمپری چنچواڑ پولیس کی ہفتہ خوری مخالف ٹیم نے صرف 24 گھنٹوں میں اس معاملے کو حل کر دیا اور اس میں پانچ ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ جس شخص نے یہ مقدمہ درج کیا تھا وہ خود اس میں ملوث تھا۔ انہوں نے مل کر یہ پوری کہانی گڑھی ہے۔

    اس کے بعد پولیس نے نوجوان کو پکڑ کر پوچھ گچھ شروع کی ملزم نے بتایا کہ وہ ایک نجی کمپنی میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کے پاس مزدوروں کی تنخواہ کے پیسے ہیں۔ بڑھتے ہوئے قرض کو دیکھ کر اور بیکاری دور کرنے کے لئے کچھ ملزم دوستوں کی مدد سے اس نے پیسہ چوری کرنے اور پیسے کو آپس میں بانٹنے کی سازش کی۔پولیس نے ان کے منصوبوں کو ناکام کردیا اور تمام ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اب تک پانچ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور دوسروں کی تلاش جاری ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: